Updated: July 17, 2026, 5:03 PM IST
| Buenos Aires
ارجنٹائنا کے صدر جیویر میلے نے کہا ہے کہ وہ توہم پرستی کی وجہ سے اسپین کے خلاف اتوار کو ہونے والے ورلڈ کپ فائنل میں شرکت نہیں کریں گے، بلکہ اس ٹائٹل مقابلے کو گھر سے دیکھیں گے۔ جہاں سے انہوں نے ٹورنامنٹ میں موجودہ چیمپئن کے گزشتہ سات میچ دیکھے ہیں اور ان تمام میچوں میں انہیں جیت ملی ہے۔
جاویئر میلی-تصویر:آئی این این
ارجنٹائنا کے صدر جیویر میلے نے کہا ہے کہ وہ توہم پرستی کی وجہ سے اسپین کے خلاف اتوار کو ہونے والے ورلڈ کپ فائنل میں شرکت نہیں کریں گے، بلکہ اس ٹائٹل مقابلے کو گھر سے دیکھیں گے۔ جہاں سے انہوں نے ٹورنامنٹ میں موجودہ چیمپئن کے گزشتہ سات میچ دیکھے ہیں اور ان تمام میچوں میں انہیں جیت ملی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پربھاس کی فلم ’’فوجی ‘‘ دسمبر ۲۰۲۶ء میں ریلیز ہوگی، نیا پوسٹر جاری
میڈیا سے بات چیت کے دوران جمعرات کو جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اتوار کا میچ دیکھنے کے لیے اپنے قریبی ساتھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور فیفا صدر جیانی انفانٹینو کے ساتھ نیو جرسی کا سفر کریں گے، تو میلے نے جواب دیا،’’بالکل نہیں۔‘‘ انہوں نے بیونس آئرس کے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن، ایل آبزرویڈر کو بتایا’’میں اولیووس سے ہی تمام میچ دیکھتا رہوں گا۔‘‘ انہوں نے اپنے صدارتی محل کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
میلے نے کہا کہ اپنے ملک کی چہیتی فٹ بال ٹیم کو لگاتار دوسری بار ٹائٹل دلانے میں مدد کرنے کی کوشش میں وہ وہی بھاری جیکٹ پہنیں گے۔ صحافی نے پوچھا کہ کیا وہ توہم پرستی کے باعث گھر پر رہ رہے ہیں۔ میلے نے ہاں کہا اور اپنی ایک اور رسم کے بارے میں بتایا، ’’کیونکہ سردی ہے اور میں ہیٹر نہیں چلاتا، اس لیے میں تیل کمپنی کی برانڈیڈ جیکٹ پہنتا ہوں۔ سوئزرلینڈ کے خلاف میچ والے دن مجھے بہت گرمی لگی۔ میں نے جیکٹ اتار دی اور انہوں نے ہمارے خلاف گول کر دیا۔ میں نے پھر سے جیکٹ پہن لی اور اس کے بعد کبھی نہیں اتاری۔‘‘
میلے کی طرح، زیادہ تر ارجنٹائنا کے باشندوں کے پاس ایسے اصول ہوتے ہیں جن کے مطابق ٹیم کے جیتنے پر انہیں ایک ہی روٹین کی پیروی کرنی پڑتی ہے۔ کچھ لوگ ہر میچ میں ایک ہی کپڑے پہنتے ہیں اور ورلڈ کپ کے دوران اپنی جرسی دھونے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ہر میچ ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر دیکھتے ہیں یا انہیں دیکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی، جیسا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے جو ارجنٹائنا کے گول کرنے کے وقت باتھ روم میں ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:تیسری زبان کا آغاز چھٹی جماعت سے ہی کریں: سپریم کورٹ
ارجنٹائنا کے صدر طویل عرصے سے ورلڈ کپ کے اہم میچوں میں شرکت کرنے سے بچتے رہے ہیں، تاکہ ان کی ٹیموں پر بدقسمتی نہ آئے۔ یہ توہم پرستی ۱۹۹۰ء کے ٹورنامنٹ سے چلی آ رہی ہے، جب اس وقت کے صدر کارلوس مینیم نے کیمرون کے ہاتھوں ابتدائی ہار سے ٹھیک پہلے ارجنٹائنا کی ٹیم کا دورہ کیا تھا۔ مینیم کو ’’موفا‘‘ یعنی منحوس قرار دیا گیا تھا۔ تب سے ارجنٹائنا کے کسی بھی موجودہ صدر کے قومی ٹیم کا میچ دیکھنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔