Updated: September 04, 2026, 10:05 PM IST
| New Delhi
سیمی فائنل میں جگہ پہلے ہی یقینی کرچکی ہندوستانی خواتین کی ٹیم ہفتہ کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں خواتین ایشیا کپ کے اپنے آخری لیگ میچ میں پاکستان کے خلاف میدان میں اترے گی تو اس پر دباؤ کم ہوگا، لیکن ناک آؤٹ مرحلے سے قبل اپنی تیاریوں کو پختہ کرنے کے لیے اس کے پاس کھیلنے کی کئی وجوہات ہوں گی۔
خواتین کی ٹیم۔ تصویر:ایکس
سیمی فائنل میں جگہ پہلے ہی یقینی کرچکی ہندوستانی خواتین کی ٹیم ہفتہ کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں خواتین ایشیا کپ کے اپنے آخری لیگ میچ میں پاکستان کے خلاف میدان میں اترے گی تو اس پر دباؤ کم ہوگا، لیکن ناک آؤٹ مرحلے سے قبل اپنی تیاریوں کو پختہ کرنے کے لیے اس کے پاس کھیلنے کی کئی وجوہات ہوں گی۔
ہندوستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے مضبوط ٹیم رہی ہے اور پاکستان کے خلاف بھی اسے واضح طور پر پسندیدہ ٹیم سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے اپنی صلاحیت کی کچھ جھلک ضرور دکھائی ہے، لیکن اس کی کارکردگی اب بھی چند اہم کھلاڑیوں پر بہت زیادہ منحصر ہے۔یہ میچ ہندوستان کو ناک آؤٹ مرحلے سے قبل اپنی ٹیم کے امتزاج کو بہتر بنانے کا موقع بھی دے گا۔ ایشیا میں اپنی برتری کے باوجود ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں ہندوستان کو کچھ پہلوؤں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر گزشتہ دو ورلڈ کپ میں ابتدائی مرحلے میں باہر ہونے کے بعد۔ ٹیم پاور ہٹنگ اور تیز گیندبازی میں مزید گہرائی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس فارمیٹ میں آسٹریلیا کے معیار تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوسکے۔
فی الحال ہندوستان کی توجہ براعظمی مقابلے میں اپنی مضبوط کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے پر ہوگی۔ گزشتہ ایڈیشن میں ہندوستان کو سری لنکا کے ہاتھوں فائنل میں شکست کے بعد رنر اپ پر اکتفا کرنا پڑا تھا، جبکہ پاکستان نے اپنے افتتاحی میچ میں تھائی لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے کی امیدیں برقرار رکھی ہیں۔دونوں ٹیموں کے درمیان گزشتہ پانچ باہمی مقابلوں میں سے چار میں ہندوستان نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ایک بار پھر اس کی اوپننگ جوڑی ہوسکتی ہے۔ اسمرتی مندھانا اور شفالی ورما دونوں نے فارم حاصل کرلی ہے۔ ہانگ کانگ کے خلاف مندھانا نے ٹورنامنٹ کی نمایاں کارکردگی پیش کرتے ہوئے شاندار سنچری بنائی اور اس دوران کئی ریکارڈ بھی قائم کیے۔ شفالی نے بھی دبئی کی مشکل بیٹنگ کنڈیشنز کے ساتھ خود کو اچھی طرح ہم آہنگ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کی تصدیق، ۱۵؍اکتوبر کو ریلیز ہوگی
دبئی کی پچ پر بلے بازوں کو عموماً شاٹس کھل کر کھیلنے سے پہلے حالات اور رفتار سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگ رہا ہے اور اکثر تقریباً ۱۰؍ گیندیں کھیلنے کے بعد وہ آزادانہ انداز میں بیٹنگ شروع کر پاتے ہیں۔ مندھانا اور شفالی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم ہندوستان کو مڈل آرڈر سے مزید بہتر کارکردگی کی توقع ہوگی۔ پرتیکا راول، رچا گھوش اور کپتان ہرمن پریت کور اچھے آغاز کو بڑی اننگز میں تبدیل نہیں کر سکی ہیں۔ نمبر تین پر پرتیکا راول کی جگہ بھی زیر غور رہے گی۔ انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں خود کو ایک کامیاب بلے باز کے طور پر منوایا ہے، لیکن ٹی ۲۰؍ میں اب تک وہ اسی طرح کا اثر نہیں چھوڑ سکی ہیں۔
مندھانا نے تاہم پاکستان کے خلاف اپنی ساتھی کھلاڑیوں سے بہتر کارکردگی کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں بیٹنگ کے لیے حالات آسان نہیں ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کچھ مشکل پیش آسکتی ہے۔ مڈل آرڈر میں بھی تمام کھلاڑی عالمی معیار کی بلے باز ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیں گی۔ تیز گیندبازی کے شعبے میں بھی ہندوستان کے لیے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں۔ نندنی شرما نے ٹیم میں شامل ہونے کے بعد اپنی کارکردگی سے متاثر کیا ہے۔ وہ کرانتی گاؤڑ کے ساتھ نئی گیند سنبھال رہی ہیں اور ہندوستان کے تیز گیندبازی کے وسائل میں ایک اور مؤثر آپشن کا اضافہ کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:زیوریو پانچ سیٹ میں جیتے، کئی سیڈ یافتہ مرد کھلاڑی یو ایس اوپن سے باہر
دوسری جانب پاکستان کو اپنی بیٹنگ کے شعبے میں کہیں بڑا چیلنج درپیش ہے۔ بلے بازی میں مشکلات اس کی مستقل کمزوری رہی ہیں اور تھائی لینڈ کے خلاف بھی پاور پلے کے اندر اس نے تین وکٹیں گنوا دی تھیں، تاہم بعد میں سنبھلتے ہوئے قابل دفاع اسکور بنایا۔ پاکستان نے ۱۱۹؍ رنز کا دفاع کرتے ہوئے بالآخر کامیابی حاصل کرلی، لیکن اوپنر منیبہ علی اور کپتان فاطمہ ثنا پر اس کا زیادہ انحصار تشویش کا باعث ہے۔ مضبوط ہندوستانی گیندبازی کے خلاف پاکستان کو ایک یا دو کھلاڑیوں پر انحصار کرنے کے بجائے پوری بیٹنگ لائن سے تعاون درکار ہوگا۔