آسٹریلوی خواتین ٹیم نے پیر کے روز کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز کو ڈک ورتھ لوئس (ڈی ایل ایس) میتھڈ کے تحت ۴۰؍ رنز سے شکست دے کر ٹی ۲۰؍ سیریز اپنے نام کر لی۔ اس فتح کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے میزبان ٹیم کے خلاف سیریز میں ۰۔۳؍سے کلین سویپ مکمل کر لیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 24, 2026, 9:05 PM IST | Sydney
آسٹریلوی خواتین ٹیم نے پیر کے روز کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز کو ڈک ورتھ لوئس (ڈی ایل ایس) میتھڈ کے تحت ۴۰؍ رنز سے شکست دے کر ٹی ۲۰؍ سیریز اپنے نام کر لی۔ اس فتح کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے میزبان ٹیم کے خلاف سیریز میں ۰۔۳؍سے کلین سویپ مکمل کر لیا ہے۔
آسٹریلوی خواتین ٹیم نے پیر کے روز کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز کو ڈک ورتھ لوئس (ڈی ایل ایس) میتھڈ کے تحت ۴۰؍ رنز سے شکست دے کر ٹی ۲۰؍ سیریز اپنے نام کر لی۔ اس فتح کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے میزبان ٹیم کے خلاف سیریز میں ۰۔۳؍سے کلین سویپ مکمل کر لیا ہے۔
میچ کی خاص بات نوجوان بیٹر جارجیا وول کی شاندار بلے بازی تھی، جنہوں نے محض ۵۲؍ گیندوں پر اپنی پہلی ٹی۲۰؍ سنچری اسکور کی۔ وہ میگ لیننگ، بیتھ مونی اور الیسا ہیلی جیسی مایہ ناز کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں جنہوں نے آسٹریلیا کی جانب سے ٹی ۲۰؍ میں سنچریاں بنائی ہیں۔
A maiden T20I century as Georgia Voll puts the world on notice 👀
— ICC (@ICC) March 24, 2026
Australia defeat the West Indies in Saint Vincent 📲 https://t.co/cx6RmdKDsx
📸 Cricket Australia pic.twitter.com/dm8vLzS9Ny
وول نے اپنی اننگز میں ۹؍ چوکے اور۶؍ بلند و بالا چھکے لگائے۔ کپتان سوفی مولینکس کی آخری اوورز میں جارحانہ بیٹنگ (۲۵؍ رنز) کی بدولت آسٹریلیا نے ۲۰؍ اوورز میں۷؍وکٹ پر ۲۱۱؍رن کا بڑا اسکور کھڑا کیا، جو خواتین ٹی ۲۰؍ تاریخ کا پانچواں بڑا مجموعہ ہے۔۲۱۲؍ رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ کیانا جوزف دوسری ہی گیند پر میگن شٹ کا شکار بنیں۔
جب ویسٹ انڈیز کا اسکور ۱۰؍ اوورز میں ۳؍وکٹ پر ۶۱؍رن تھا، تو بارش نے میچ روک دیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کے انتظار کے بعد جب کھیل ممکن نہ ہو سکا تو ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت آسٹریلیا کو۴۰؍ رنز سے فاتح قرار دے دیا گیا۔ویسٹ انڈین کپتان ہیلی میتھیوز نے گیند بازی میں ۲۹؍رنز دے کر ۳؍ وکٹ حاصل کئے اور بلے بازی میں ۳۰؍ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رنویر سنگھ کی فلم ’’دُھرندھر۲‘‘ پر پابندی لگانے کا مطالبہ
ایشیز میں بدترین شکست کے بعد کا وقت کپتانی کا سب سے مشکل مرحلہ رہا: اسٹوکس
انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس نے آسٹریلیا کے خلاف ایشیز سیریز میں ۱۔۴؍ کی بدترین شکست کے بعد کے وقت کو اپنی کپتانی کا سب سے مشکل مرحلہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے ہیڈ کوچ برینڈن میکولم اور منیجنگ ڈائریکٹر روب کی پر بھرپور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
اسٹوکس نے کہا کہ کپتانی ایک اعزاز ہے مگر اس کے ساتھ مشکلات بھی جڑی ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ تین ماہ نے انہیں کئی طرح سے آزمایا، تاہم وہ ان چیلنجز سے بہت کچھ سیکھے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کائلیان ایمباپے کی فٹنیس اور ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں شرکت ؟
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ، میکولم اور روب کی مل کر ٹیم کو آگے لے جانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ ایشیز سیریز میں اسٹوکس کی کارکردگی محدود رہی، انہوں نے۱۵؍ وکٹ حاصل کئے اور۱۸۴؍رن بنائے جبکہ آخری ٹیسٹ میں انجری کا شکار بھی ہوئے۔ اب ان کی نظریں جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز پر مرکوز ہیں۔ واضح رہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ اسٹوکس بدستور ٹیسٹ کپتان رہیں گے، جبکہ میکولم اور روب کی بھی اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ چیف ایگزیکٹیو رچرڈ گولڈ نے تسلیم کیا کہ اس شکست کے بعد کسی ایک فرد کو ذمہ دار نہ ٹھہرانا شائقین کے لیے غیر مقبول فیصلہ ہو سکتا ہے۔