Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی بی ایل کے نئے ضوابط کے تحت آسٹریلوی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ رقم ملے گی

Updated: August 26, 2026, 5:05 PM IST | Sydney

بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کے معاہدوں پر عائد پابندیاں جمعرات کے روز ختم ہونے کے بعد اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے والے آسٹریلوی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ رقم ملے گی۔

Big Bash League.Photo:INN
بگ بیش لیگ۔ تصویر:آئی این این

بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کے معاہدوں پر عائد پابندیاں جمعرات کے روز ختم ہونے کے بعد اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے والے آسٹریلوی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ رقم ملے گی۔ آسٹریلین کرکٹرز اسوسی ایشن (اے سی اے) کے ساتھ مہینوں کی بات چیت اور کلبوں سے ملنے والے فیڈ بیک کے بعد، کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) نے بالآخرڈبلیو بی بی ایل سیزن شروع ہونے سے چھ ہفتے قبل معاہدوں کے نئے ضوابط  کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے تحت غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے ڈرافٹ سسٹم کو ختم کر دیا گیا ہے اور بڑے گھریلو کھلاڑیوں کو زیادہ رقم دینے کے مقصد سے ضروری بڑے گھریلوکھلاڑیوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ کلبوں کو غیر ملکی کھلاڑیوں کو سائن نہ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
یہ پابندی جمعرات کی صبح ۹؍ بجے (اے ای ایس ٹی) ختم ہو جائے گی اور اس سے بین اسٹوکس اور فن ایلن جیسے کھلاڑیوں کے لیے بی بی ایل کلبوں کے ساتھ براہ راست ریکارڈ معاہدے سائن کرنے کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، میلبورن رینیگیڈز چھوڑنے کے بعد آسٹریلیا کے لیگ اسپنر ایڈم زمپا کو بھی بالآخر کوئی کلب مل سکتا ہے۔ آسٹریلیا کے ٹی ۲۰؍ وکٹ کیپر جوش انگلس کو بھی نظریاتی طور پر فائدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ پرتھ اسکارچرز کے ساتھ ان کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے؛ تاہم، ٹیسٹ ڈیوٹی کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ وہ آنے والے بی بی ایل کے کسی بھی حصے کے لیے دستیاب نہ ہوں، جس سے آنے والے سیزن کے لیے بڑا کانٹریکٹ حاصل کرنے کا ان کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اے کے ہنگل فلموں کے سدا بہار ’انکل‘ تھے

آسٹریلیا کے کئی بڑے بی بی ایل کھلاڑی اور متعدد کلب طویل عرصے سے غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے مقررہ `ڈرافٹ سسٹم سے پریشان تھے۔ اس سسٹم کی وجہ سے بعض اوقات کم مشہور غیر ملکی کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کے قواعد و ضوابط کے باعث بہترین مقامی کھلاڑیوں سے کہیں زیادہ رقم مل جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:نیپال: وزیراعظم بالین شاہ کو پارلیمنٹ میں کالا چشمہ پہننے کی اجازت

ڈبلیو بی بی ایل میں بھی یہی قوانین لاگو ہوں گے۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے کوئی کم از کم تعداد طے نہیں ہوگی، ۱۵؍ کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم میں تین مارکی کھلاڑی ہوں گے جن کا معاوضہ زیادہ ہوگا۔ بی بی ایل کے باس ایلیسٹر ڈوبسن نے بتایاکہ کھلاڑیوں کی مارکیٹ مسلسل بدل رہی ہے اور بی بی ایل و ڈبلیو بی بی ایل ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے ہیں۔ کلبوں کے پاس مختلف کھلاڑیوں کی قدر و قیمت اور ان کے گھریلو یا غیر ملکی ہونے کی بنیاد پر خود اندازہ لگانے کی آزادی ہونا ضروری ہے، اور بالآخر بات یہی ہے کہ کلبوں کو اپنی ٹیم بنانے کی مکمل آزادی ملے۔ اس کے باوجود، ہمیں امید ہے کہ ہماری لیگ میں بہترین غیر ملکی کھلاڑی آئیں گے کیونکہ وہ ہر ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈرافٹ ہمارے لیے ایک شاندار ایونٹ تھا۔ اس نے کچھ وقت کے لیے ہمارے لیے بہت اہم کردار ادا کیا اور ہمارے تمام کلبوں کو اپنی ٹیم بنانے کی حکمت عملی طے کرنے کا ایک بنیاد  فراہم کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK