Updated: July 09, 2026, 11:30 AM IST
|
Agency
| Tehran
آیت اللہ خامنہ ای کا آخری سفر سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان نجف میں لاکھوں افراد کے درمیان شروع ہوا، اہم شخصیات کی شرکت۔
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ عراق کے شہر نجف میں حضرت علی ؓ کے روضہ پر ادا کر دی گئی جس میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی۔ اسی دوران شہید خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی میتیں کربلا میں روضۂ امام حسین ؓ پر پہنچا دی گئیں۔ گزشتہ روز قم میں جلوسِ جنازہ کے بعد شہید سید علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی میتیں رات کو عراق منتقل کی گئی تھیں۔ شہداء کی تدفین آج( جمعرات کو) ان کے آبائی شہر مشہد میں روضۂ امام رضا کے احاطے میں کی جائے گی۔ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ بدھ کی شام عراق کے شہر کربلا پہنچا۔ اس سے قبل مقدس شہر نجف میں حضرت علیؓ کے مزار پر ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ عراق کے یہ دونوں شہر شیعہ فرقے کے لئے خاص مذہبی اہمیت کے حامل ہیں، اس لئے آیت اللہ خامنہ ای کے آخری سفر کو ایران کے ساتھ ساتھ ان شہروں سے بھی گزارا گیا۔ نجف میں آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کی امامت آیت اللہ محمد تقی الحکیم نے کی۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق کربلا میں شیخ عبدالمہدی الکربلائی امام حسین کے مزار پر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ خبر لکھے جانے تک کربلامیں نماز ادانہیں کی گئی ہے۔
اس کے بعد جنازے کو سید جودہ چوراہے سے المحافظہ اسٹریٹ ہوتے ہوئے امام حسین اور حضرت عباس کے مزار پر لے جایا جائے گا۔ شیعہ برادری کے سب سے بڑے لیڈر کا یہ آخری سفر اب کربلا سے ہوتے ہوئے ان کے آبائی شہر ایران کے مشہد جائے گا۔ یہاں امام رضا کی قبر کے پاس جمعرات کو انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔
میڈیارپورٹس کےمطابق عراق میں آیت اللہ خامنہ ای کا آخری سفر نجف شہر میں لاکھوں افراد کے درمیان شروع ہوا۔ سخت سیکوریٹی کے دوران جنازے میں کئی سینئر سیاسی اور مذہبی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ عراقی نیوز ایجنسی کے مطابق جنازہ علی الصباح۶؍ بجے شروع ہوا، جس میں ملک بھر سے غمزدہ لوگ شامل ہوئے۔
اس سے قبل آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے آنجہانی اہل خانہ کے جسد خاکی منگل کی رات نجف بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان اور سینئر ایرانی حکام کا ایک وفد بھی جنازے میں شرکت کے لئے عراق پہنچ چکا تھا۔ اس سرکاری تقریب میں عراقی وزیر اعظم علی الزیدی، صدر پزیشکیان، ایرانی وفد کے اراکین اور عراق کی اہم سیاسی، مذہبی اور قبائلی شخصیات شریک ہوئیںجن میں نوری المالکی بھی شامل تھے۔