Updated: April 30, 2026, 1:44 PM IST
|
Agency
| Amravati
سابق رکن اسمبلی نے کہا ’’ اگر کسانوں اور معذوروں کے مسائل پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو میں اتحاد کیلئے تیار ہوں۔‘‘
ایکناتھ شندے بچو کڑو کی عوامی مقبولیت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں-تصویر:آئی این این
گزشتہ کچھ دنوں سے میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پرہار جن شکتی پارٹی کے سربراہ بچو کڑو کو پیش کش کی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو شیوسینا (شندے) میں ضم کر دیں بدلے میں انہیں ودھان پریشد کا رکن ( ایم ایل سی) بنا دیا جائے گا۔ بچو کڑو نے بدھ کے روز اس تعلق سے ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے شندے گروپ میں شمولیت کے فیصلے کی تردید کی ، البتہ انہوں نے چند شرائط کے ساتھ ایکناتھ شندے سے گفتگو کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
بچو کڑو نے کہا کہ ’’ میں بھی ایم ایل سی بن سکتا ہوں یہ بات مجھے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئی۔ میںکسی ایک ذات یا مذہب کا آدمی نہیں ہوں۔ میںکسانوں اور معذوروں کیلئے کام کرنے والا شخص ہوں۔ اگر ایکناتھ شندے نے مجھے ودھان پریشد کی امیدواری دی تو یہ کسانوں اور معذوروں کیلئے اعزاز ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا’’ میں نے شیوسینا سے بغاوت کرکے پرہار جن شکتی پارٹی کی بنیاد ڈالی تھی۔ میں نے زندگی میں کسی سے بھی حمایت نہیں لی ، ہمیشہ اکیلا ہی لڑتا رہا۔ اس لئے اپنی پارٹی کو کسی اور پارٹی میں ضم کرنےکا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ‘‘ کسان لیڈر کہلانے والے بچو کڑو کا کہنا ہے ’’ البتہ اگر معذوروںکے زیر التواءمسائل پر کوئی پیش رفت ہو، کسانوں کے قرضوں کی معافی اور ایم ایس پی کے تعلق سے اقدامات کئے جائیں تو میں ایکناتھ شندے سے گفتگو کر سکتا ہوں۔ ‘‘ بچو کڑو نے کہا ’’ میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والا شخص نہیںہوں۔ میں لوگوں کو ان کے مذہب سے نہیں بلکہ ان کے کسان ہونے ، مزدور ہونے یا پسماندہ ہونے سے پہچانتا ہوں۔ بچو کڑو کبھی کسی عہدے کیلئے اتحاد نہیں کرے گا بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کرے گا۔‘‘
انہوں نے کہا ’’ اگر مجھے عہدہ ہی چاہئے ہوتا تو کیا مشکل تھا کہ میں مہایوتی کے ساتھ جاتا اور کہتا کہ مجھے ایک سیٹ پر جیت دلوا دو میں آپ کا ساتھ دیتا ہوں۔ لیکن میں نے ان کا مقابلہ کیا ، مجھے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کا مجھے افسوس ہے۔‘‘ بچو کڑو کے مطابق ’’ میں کل تک عوام کے پاس جایا کرتا تھا لیکن عوام نے مجھے شکست دی لہٰذا اب مجھے مسائل کو حل کرنے کیلئے لیڈروں کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا اگر مجھے امیدواری ملی تو میں پوری محنت کے ساتھ کسانوں کیلئے کام کروں گا ۔