بحرین کی وزارت داخلہ نے قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جامع سکیورٹی اور قانونی جائزے کا آغاز کرتے ہوئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط، جاسوسی مقدمات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کا اعلان کر دیا۔
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 12:04 PM IST | Tehran
بحرین کی وزارت داخلہ نے قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جامع سکیورٹی اور قانونی جائزے کا آغاز کرتے ہوئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط، جاسوسی مقدمات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کا اعلان کر دیا۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جامع سیکوریٹی اور قانونی جائزے کا آغاز کرتے ہوئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط، جاسوسی مقدمات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کا اعلان کر دیا۔ بحرینی وزارت داخلہ کے مطابق نئے جائزے میں اُن جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کا مطالعہ شامل ہے جن میں میڈیا پلیٹ فارمز، مذہبی منبروں، سماجی و فلاحی اداروں، تعلیمی مراکز، اسکولوں اور کنڈرگارٹنز کو انتہا پسندانہ نظریات اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ وزارت نے کہا کہ بعض عناصر مذہبی لبادے میں معاشرتی اداروں کو استعمال کرتے ہوئے غلط تصورات پھیلا رہے تھے اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:’سرکے چُنر‘گانے کا تنازع: قومی کمیشن برائے خواتین کے سامنے آج نورا فتحی کی پیشی
بیان کے مطابق یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب ریاست تمام شہریوں کو بنیادی سہولیات اور خدمات فراہم کر رہی ہے۔ بحرینی حکام نے بتایا کہ حالیہ اصلاحی اقدامات کے تحت اُن افراد کی شہریت کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جن پر ریاست کے خلاف سرگرمیوں یا غداری جیسے اقدامات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق سیکوریٹی اداروں نے ملک کے اندر ایسے گروہوں کے ارکان کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد پر حساس معلومات فراہم کرنے، سیکوریٹی استحکام کو نقصان پہنچانے اور بحرین کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے امریکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے
وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ بعض افراد ولایتِ فقیہ کے نظریے اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے فکری وابستگی رکھتے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد ریاست کے خلاف دشمنی کو فروغ دینا، شہریوں اور سول سوسائٹی کو ہراساں کرنا، نفرت پھیلانا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا تھا۔ بحرینی وزارت داخلہ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سماجی یکجہتی اور قومی استحکام کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ ملک کے مفاد اور داخلی سلامتی کو محفوظ بنایا جا سکے۔