Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے بچے کی جنس ظاہر کرنے پر پابندی عائد کر دی

Updated: May 12, 2026, 1:00 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش کے ہائی کورٹ نے رحم میں موجود بچے کی جنس ظاہر کرنے کے خلاف تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اسے نسوانی قتل کی روک تھام کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ غیر پیدائشی بچے کی جنس بتانا ’’پیشہ ورانہ بدتمیزی‘‘ کے مترادف ہے۔

Dhaka High Court. Photo: INN
ڈھاکہ ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش کے ہائی کورٹ نے رحم میں موجود بچے کی جنس ظاہر کرنے کے خلاف ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے اس عمل کو روکنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس ناعمہ حیدر اور جسٹس قاضی زینت حق پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ عدالت نے ۲۰۲۰ء میں دائر ایک آئینی درخواست پر مکمل فیصلہ جاری کیا، جبکہ اس معاملے میں فروری ۲۰۲۴ء میں مختصر حکم پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔ درخواست گزاروں میں شامل ایڈوکیٹ عشرت حسن نے فیصلے کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رحم میں موجود بچے کی جنس ظاہر کرنا ’’پیشہ ورانہ بدتمیزی‘‘ کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا: آئین میں ترمیم، کم جونگ ان کے قتل کی صورت میں جوہری حملہ لازمی

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی معلومات اکثر لڑکیوں کے بچے کے اسقاط حمل کا سبب بنتی ہیں، جس کے معاشرتی اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ہندوستان کی مثال بھی دی، جہاں غیر پیدائشی بچے کی جنس ظاہر کرنا پہلے ہی قانوناً ممنوع ہے۔ جنوبی ایشیا کے کئی معاشروں میں بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے کا رجحان اب بھی موجود ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں۔ ماہرین کے مطابق یہی سوچ بعض اوقات خاندانوں کو لڑکی کے بچے کے اسقاط حمل کی طرف لے جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صنفی تناسب متاثر ہوتا ہے۔

سید عبدالحمید، جو ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہیلتھ اکنامکس پڑھاتے ہیں، نے اس فیصلے کو ’’اہم پیش رفت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور ہندوستان دونوں میں ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جہاں خاندان میں پہلے سے دو یا زیادہ لڑکیاں ہونے کی صورت میں لڑکی کے بچے کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی امتیاز کے خلاف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسیز کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ چھ ماہ کے اندر ایک مرکزی ڈجیٹل ڈیٹا بیس قائم کرے۔ اس نظام کے ذریعے اسپتالوں اور طبی مراکز میں ہونے والی بچے سے متعلق تشخیصی رپورٹس کی نگرانی کی جائے گی تاکہ غیر قانونی طور پر جنس ظاہر کرنے یا اسقاط حمل کے مشتبہ معاملات پر نظر رکھی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کر دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے بعد کئی ممالک میں جنس معلوم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جس نے بعض معاشروں میں صنفی عدم توازن کو مزید بڑھایا۔ خواتین کے حقوق کے کارکنان نے بنگلہ دیشی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشرے میں بیٹیوں کے خلاف امتیازی سوچ کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اب اصل چیلنج اس فیصلے پر مؤثر عمل درآمد اور نجی طبی مراکز کی نگرانی ہوگا تاکہ قانون کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK