ہندوستان کے تیز گیند بازبھونیشور کمار آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کی جانب سے شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 12, 2026, 5:22 PM IST | Raipur
ہندوستان کے تیز گیند بازبھونیشور کمار آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کی جانب سے شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
ہندوستان کے تیز گیند بازبھونیشور کمار آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کی جانب سے شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ بھونیشور کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حال ہی میں سابق ہندوستانی گیند باز روی چندرن اشون نے انہیں ہندوستان کی ٹی۲۰؍ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، بھونیشور نے قومی ٹیم میں واپسی کی باتوں کو مسترد کر دیا ہے۔
بھونیشور نے کہا کہ ماضی کی مایوسی سے سیکھنے کے بعد اب وہ طویل مدتی اہداف مقرر نہیں کرتے۔ آر سی بی کی جانب سے کھیلتے ہوئے اس سیزن میں وہ ۲۱؍ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ بھونیشور پاور پلے کے ساتھ ساتھ ڈیتھ اوورز میں بھی شاندار گیند بازی کر رہے ہیں۔
آر سی بی کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’’ایکس‘‘ پر شیئر کیے گئے ویڈیو میں ۳۶؍ سالہ گیند باز نے کہا’’میں ہندوستانی ٹیم میں واپسی کے بارے میں نہیں سوچتا۔ کئی سال ہو گئے ہیں جب میں نے طویل مدتی اہداف مقرر کرنا بند کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی میں نے ایسا کیا، یہ میرے لیے کبھی کام نہیں آیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:نوجوان اسٹار الامین جمال نے فلسطینی پرچم لہرا کر مداحوں کے دل جیت لیے
آئی پی ایل میں ان کی مسلسل اچھی کارکردگی کے بعد حال ہی میں کئی سابق کرکٹرز اور ماہرین نے قومی ٹیم میں ان کی واپسی کی حمایت کی، لیکن بھونیشور نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر میں جہاں ہیں، وہاں خوش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں خوش ہوں کہ ۲۰۰؍ میچ ہیں، اتنی زیادہ وکٹیں ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب ان کاموں کا صلہ ہے جو میں نے اتنے برسوں میں کیے ہیں۔ اچھے اور برے سال بھی رہے ہیں۔ سچ کہوں تو، اس وقت مجھے کچھ خاص محسوس نہیں ہو رہا۔ یقیناً اگر میں یہ کہوں کہ مستقبل میں کھیلنا بند کرنے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوگا تو یہ جھوٹ ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب یادیں ہیں جو بعد میں کام آئیں گی۔ تاہم، اس وقت مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے لیے بالکل معمول کی بات ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:نوجوان اسٹار الامین جمال نے فلسطینی پرچم لہرا کر مداحوں کے دل جیت لیے
بھونیشور نے مزید بتایا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں موقع نہ ملنے سے انہیں اپنا ورک لوڈ بہتر انداز میں سنبھالنے میں مدد ملی ہے، کیونکہ اب ان کے پاس ریکوری کے لیے وقت موجود ہے۔ انہوں نے کہا’’جب سے میں نے ملک کے لیے کھیلنا بند کیا ہے، سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آئی پی ایل کے بعد مجھے کافی بریک ملتے ہیں۔ میں فارم برقرار رکھنے کے لیے کافی کرکٹ کھیلتا ہوں اور مجھے دوسرے کام کرنے کے لیے بھی کافی وقت مل جاتا ہے۔‘‘