• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند

Updated: November 02, 2026, 3:00 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش میں کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کے مطالبے پر گارمنٹ مزدوروں کا احتجاج پُرتشدد رخ اختیار کر گیا، جس کے دوران کئی شہروں میں توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے اہم شاہراہیں بند کر دیں، جس سے ٹریفک اور فیکٹریوں میں لگی آگ بجھانے کی کارروائیاں بھی متاثر ہوئیں۔

A heavy police contingent has been deployed following the protest. Photo: X
احتجاج کے بعد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ تصویر: ایکس

بنگلہ دیش میں ایک بار پھر احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس مرتبہ گارمنٹ فیکٹریوں کے مزدوروں نے اجرت میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے پُرتشدد احتجاج شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور ساؤنڈ گرینیڈ کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈھاکہ اور غازی پور میں توڑ پھوڑ اور پولیس و مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مظاہرین کی جانب سے پولیس چوکیوں میں توڑ پھوڑ اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے بعد حکومت نے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔

یہ احتجاج اتوار (یکم نومبر) کو شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈھاکہ کے میرپور اور غازی پور کے علاقے کوناباری سمیت کئی مقامات تک پھیل گیا۔ مزدور ماہانہ کم از کم اجرت۳۰؍ ہزار ٹکا مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش میں فی الحال گارمنٹ فیکٹریوں کے مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت۱۲؍ ہزار ۵۰۰؍ ٹکا ہے۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بنگلہ دیشی حکومت نے سرکاری ملازمین کیلئے نئے تنخواہی پیمانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ان کی تنخواہوں اور مراعات میں تقریباً دوگنا اضافہ کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں فیکٹریوں میں توڑ پھوڑ کے مناظر بھی دکھائی دیئے ہیں۔ ایک ویڈیو میں مشتعل مظاہرین کو پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ دوسری ویڈیو میں متعدد مظاہرین اہم سڑکوں کو بند کرتے اور رکاوٹوں پر چڑھتے نظر آئے۔ ڈھاکہ میں مزدوروں نے صبح تقریباً۹؍ بجے سے میرپور-۱۰؍ چوراہے کو بند کر دیا جس کے باعث میرپور-۱۱؍ سے اگارگاؤں اور میرپور-۲؍ سے میرپور-۱۳؍ کو ملانے والی سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ غازی پور میں ڈھاکہ-ٹانگیل شاہراہ پر بھی ٹریفک درہم برہم ہو گئی، جبکہ احتجاج پالی بدیوت، کوناباری، بھوگرا، ناؤجور، صفی پور اور موچاک سمیت مختلف علاقوں تک پھیل گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پتھراؤ بھی کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ڈھاکہ-ٹانگیل اور ڈھاکہ-میمن سنگھ جیسی اہم شاہراہوں کو عارضی رکاوٹیں کھڑی کرکے، جلتے ہوئے ٹائر اور لکڑیاں ڈال کر بند کر دیا گیا۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے فیکٹریوں میں لگی آگ بجھانےکیلئے پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو بھی آگے بڑھنے سے روک دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK