Updated: August 25, 2026, 9:06 PM IST
| New Delhi
بی ڈبلیو ایف ورلڈ چیمپئن شپ ۲۰۲۶ء میں کانسہ کا تمغہ جیتنے کے بعد گایتری گوپی چند کا اعتماد بڑھ گیا ہے کہ وہ اور تریسا جولی مستقبل میں خواتین ڈبلز میں دنیا کی نمبر ایک جوڑی بن سکتی ہیں۔ گایاتری نے کہا کہ نئی دہلی میں ان کی کارکردگی نے ثابت کردیا ہے کہ ورلڈ چیمپئن بننا اب ناممکن خواب نہیں۔
گایتری گوپی چند۔ تصویر:ایکس
بی ڈبلیو ایف ورلڈ چیمپئن شپ ۲۰۲۶ء میں کانسہ کا تمغہ جیتنے کے بعد گایتری گوپی چند کا اعتماد بڑھ گیا ہے کہ وہ اور تریسا جولی مستقبل میں خواتین ڈبلز میں دنیا کی نمبر ایک جوڑی بن سکتی ہیں۔ گزشتہ ۱۵؍ برس میں ورلڈ چیمپئن شپ میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خواتین ڈبلز جوڑی بننے کے بعد گایاتری نے کہا کہ نئی دہلی میں ان کی کارکردگی نے ثابت کردیا ہے کہ ورلڈ چیمپئن بننا اب ناممکن خواب نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پاکستان کے خلاف کھیلنے کا دباؤ الگ ہوتا ہے: ہرمن پریت
گایتری نے کہا کہ بڑی جوڑیوں کے خلاف کامیابیوں اور مسلسل بہتر کھیل نے ان کا اعتماد بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق فلپائن چیلنج کے بعد حاصل ہونے والے مومنٹم سے بھی دونوں کو ورلڈ چیمپئن شپ سے قبل خود پر مزید یقین پیدا ہوا۔انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے انہیں تمغہ جیتنے کی خاص امید نہیں تھی، لیکن وہ کورٹ پر اتر کر ۱۰۰؍ فیصد دینے، کھیل سے لطف اندوز ہونے اور ہر موقع سے فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھیں۔ٹاپ چینی جوڑی لیو شینگ شو اور ٹین نِنگ کے خلاف سیمی فائنل میں تریسا اور گایتری نے پہلا گیم جیتا، لیکن اگلے تین گیمز میں شکست کے ساتھ ان کا سفر ختم ہوگیا۔ گایاتری نے کہا کہ دنیا کی نمبر ایک اور دو جوڑیوں کے خلاف انہیں مزید صبر سے کھیلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ آسانی سے پوائنٹس نہیں دیتیں۔
یہ بھی پڑھئے:نین تارا کا انکشاف: پہلی ملازمت میں صرف ۲؍ سے ۳؍ ہزار روپے معاوضہ ملا
انہوں نے کہا کہ پہلے گیم کے بعد وہ کچھ جلد بازی میں آگئیں اور فوری طور پر پوائنٹس حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں، جو ان کے حق میں نہیں گیا۔ اپنی ساتھی تریسا کے بارے میں گایاتری نے کہا کہ دونوں کورٹ پر ایک دوسرے کی کمزوریوں کو پورا کرتی ہیں۔ ٹریسا کا جارحانہ کھیل اور کورٹ پر مضبوط موجودگی ٹیم کے لیے بہت اہم ہے، جبکہ دونوں ایک ساتھ وقت گزارنے سے لطف اندوز بھی ہوتی ہیں۔گایتری نے کہا کہ چوٹ سے بھرے مشکل دور کے بعد ورلڈ چیمپئن شپ میں تمغہ جیتنے سے ان کا اعتماد مزید بڑھا ہے اور اب انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں چیزیں مختلف ہوسکتی ہیں۔اپنے والد اور کوچ پلیلا گوپی چند کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کورٹ پر وہ ان کے ساتھ بھی باقی کھلاڑیوں جیسا ہی برتاؤ کرتے ہیں اور پوائنٹ گنوانے پر کبھی کبھی کافی سخت بھی ہوجاتے ہیں۔گایتری کے مطابق پورے ٹورنامنٹ کے دوران ان کے والد نے دونوں کھلاڑیوں کو ایک ہی پیغام دیا کہ پرسکون رہیں، کھیل سے لطف اٹھائیں اور اپنا بہترین دینے پر توجہ مرکوز کریں۔