Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھارت بھوشن معصوم چہرے اور درد میں ڈوبی آواز کے مالک تھے

Updated: June 15, 2026, 10:11 AM IST | Agency | Mumbai

کچھ لوگ دنیا سےتوچلے جاتے ہیں لیکن ان کے کام رہتی دنیا تک یاد رہتے ہیں۔ شہرت کی بلندیوں پر رشکِ قمرہونا اور پھر گمنامی کے اندھیروں میں اس طرح کھو جانا کہ پاؤں تلے زمین تک نہ رہے- یہ کہانی ہے ہندی سینما کے اس ’بائیسکوپ‘ کی جسے دنیا بھارت بھوشن کے نام سے جانتی ہے۔

Bharat Bhushan, A Charming Actor.Photo:INN
بھارت بھوشن ایک دلکش اداکار- تصویر:آئی این این
کچھ لوگ دنیا سےتوچلے جاتے ہیں لیکن ان کے کام رہتی دنیا تک یاد رہتے ہیں۔ شہرت کی بلندیوں پر رشکِ قمرہونا اور پھر گمنامی کے اندھیروں میں اس طرح کھو جانا کہ پاؤں تلے زمین تک نہ رہے- یہ کہانی ہے ہندی سینما کے اس ’بائیسکوپ‘ کی جسے دنیا بھارت بھوشن کے نام سے جانتی ہے۔ ۱۹۵۰ءکی دہائی میں جب پردۂ سیمیں پر ہیرو کا مطلب صرف رومانس یا ایکشن ہواکرتا تھا، تب ایک نوجوان نےاپنی جھکی ہوئی نظروں، چہرے کی معصومیت اور درد میں ڈوبی آواز سے تقدس اور شائستگی کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔’بیجو باؤرا‘کا وہ بھولا بھالا سنگیت کار ہو یا’مرزا غالب‘کا عظیم شاعر، بھارت بھوشن نے کرداروں کو صرف نبھایا نہیں، بلکہ ان میں اپنی روح پھونک دی۔فن کاروں،ادیبوں،موسیقاروں، بھکتوں اور تاریخی حیثیت رکھنے والی شخصیات کو اپنی بہترین فطری اداکاری سے پردہ سیمیں پر زندہ کرنے والے بھارت بھوشن کی پیدائش ۱۴؍جون ۱۹۲۰ءکومیرٹھ میںاور پرورش علی گڑھ اترپردیش میں ہوئی تھی۔
 
 
بمبئی میں گلوکارہ بننےکی تمنا لے کر آنے والے بھارت بھوشن کو جب اس شعبہ میں کامیابی نہیں ملی تو انہوںنےاداکاری کی جانب قدم بڑھادیئے اور ۱۹۴۱ءکی فلم ’چترلیکھا‘میںانہیں ایک چھوٹاسا رول ملا اوریہاں سے انہوں نے اپنے فلمی کریئرکی شروعات کی۔ وہ گلوکار تو نہیں بن پائے مگر اداکاری میں ضرور نام کمایا۔
 
 
کئی برسوں تک انہیں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی لیکن فلم ساز وہدایت کاروجے بھٹ کی فلم بیجوباؤرا نے انہیں شناخت عطاکی۔کہا جاتا ہے کہ فلم بیجوباؤرا نہ صرف بھارت بھوشن کے لئے بلکہ وجے بھٹ کے لئے نعمت ثابت ہوئی کیوں کہ ان دنوں ان کے پرکاش اسٹوڈیو کی حالت اچھی نہیں تھی۔ اس فلم نے ایک طرف جہاں وجے بھٹ کی مالی حالت کو بہتر بنایا بلکہ بھارت بھوشن اور میناکمار کو نئی پہچان دی اور ان کے اسٹار بننے کی راہ ہموار کی۔اس فلم کےنغمے او دنیا کے رکھوالے… من تڑپت ہری درشن کو آج…تو گنگا کی موج میں جمنا کادھارا…بچپن کی محبت کو دل سے نہ جدا کرنا، انسان بنو کرلو بھلائی کا کوئی کام،جھولے میں پون کے آئی بہار،اور دور کوئی گائے جیسے نغموں کو لو گ آج تک نہیں بھول پائےہیں۔ان میں آج بھی وہی تازگی ہے جو پہلےتھی۔کہاجاتا ہے کہ اس فلم کے لئے پہلے دلیپ کمار اور نرگس کو سائن کرنے کی بات چل رہی تھی لیکن موسیقاراعظم نوشاد نے وجے بھٹ پر زور ڈالا کہ وہ جہاںتک ممکن ہونئے اداکاروں کو لیں۔ اس پر عمل کرتے ہوئےانہوں نے بھارت بھوشن اور مینا کماری کو سائن کیا۔۱۹۶۴ءمیںانہوںنےفلم ’دوج کا چاند‘ خود بنائی لیکن بری طرح فلاپ ہونے کے بعد انہوں نے فلم سازی سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔(۱۹۶۷ء) میں ریلیز ہونے والے فلم ’تقدیر‘ بطور ہیرو ان کی آخری فلم تھی۔ اس کے بعد انہیں کسی فلم میں ہیروکا رول ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔بعد میں فلموں اسلوب اور طرز میں بدلاؤ کے بعدانہوں نےکیریکٹر رول اداکئے۔لیکن وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ کسی وقت جب فلم ساز بھارت بھوشن کو سائن کرنےکیلئےلائن لگائے رہتے تھے،انہوں نے منہ موڑ لیا اور اس عظیم اداکار کو اپنا گزارہ کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹےرول نبھانا پڑے۔جب حالات مزید خراب ہوئےاور فلموں میں کام ملنے کا سلسلہ بالکل بند ہوگیا تو انہوں نے چھوٹے پردے پر کام کرناشروع کیا۔ انہوں نے بے چارے گپتاجی اور دشا جیسے سیریلوں میں بھی کام کیا۔۲۷؍جنوری ۱۹۹۲ء کووہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK