Updated: April 22, 2026, 10:57 AM IST
|
Agency
| Mumbai
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیںجو محض فلم ساز نہیںبلکہ ایک عہد کی علامت ہیں۔انہی میں ایک درخشاں نام بلدیو راج چوپڑہ یعنی بی آر چوپڑہ کا ہے۔وہ شخص جس نے کہانی کو صرف پردے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماج کے دل تک پہنچایا۔
بی آر چوپڑہ۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیںجو محض فلم ساز نہیںبلکہ ایک عہد کی علامت ہیں۔انہی میں ایک درخشاں نام بلدیو راج چوپڑہ یعنی بی آر چوپڑہ کا ہے۔وہ شخص جس نے کہانی کو صرف پردے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماج کے دل تک پہنچایا، اور ایسے سوالات اٹھائے جو وقت کے ساتھ اور بھی گہرے ہوتے گئے۔
بلدیو راج چوپڑہ۲۲؍ اپریل ۱۹۱۴ءکو متحدہ ہندوستان کے پنجاب کے موجودہ ضلع شہید بھگت سنگھ نگر، راہوںمیں پیدا ہوئے۔ والدولایتی راج چوپڑہ محکمہ پی ڈبلیو ڈی میں ملازم تھے۔ بعد میں خاندان لاہور منتقل ہو گیا۔ بی آر چوپڑہ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ ان کے ہم جماعتوں میں چیتن آنند اور بلراج ساہنی شامل تھے۔ وہ کئی بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی یش چوپڑہ بھی مشہور فلم ساز بنے۔ فلمی دنیا میں آنے سے پہلے بی آر چوپڑہ نے لاہور سے شائع ہونے والے فلمی ماہنامہ ’سنے ہیرالڈ‘کے لیے فلمی صحافی کے طور پر کام شروع کیا۔ بعد میں انہوں نے یہ میگزین خود چلایا۔ ۱۹۴۷ءمیںتقسیم کے ہنگاموں کے دوران لاہور چھوڑنا پڑا اور خاندان پہلے دہلی پھر ممبئی آ گیا۔
ممبئی پہنچ کر انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ۱۹۴۹ء میں خاندان کی ساری جمع پونجی لگا کر انہوں نےفلم ’کروٹ‘ بنائی جو باکس آفس پر ناکام رہی۔ اس سے چوپڑہ خاندان دیوالیہ ہو گیا اور بی آر چوپڑہ کو دوبارہ صحافت کی طرف لوٹنا پڑا۔لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ۱۹۵۱ء میں انہوں نے فلم ’افسانہ‘ بنائی جس میں اشوک کمار ڈبل رول میں تھے۔یہ فلم سپر ہٹ ہوئی اور ان کا نام بالی وڈ میں قائم ہو گیا۔۱۹۵۵ءمیں انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی بی آر فلمزقائم کی۔یہ وہ ادارہ تھا جس نے بعد میں کئی لازوال فلمیں دیں۔ان کی فلمیں محض تفریح نہیں ہوتیں بلکہ سماجی مسائل کا آئینہ ہوتی تھیں۔ ۱۹۵۷ءمیں ریلیز ہونے والی فلم نیا دوراس کی بہترین مثال ہے، جس میں صنعتی ترقی اور انسانی محنت کے درمیان کشمکش کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔
بی آر چوپڑہ کی فلموں میں ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ مشکل اور حساس موضوعات سے کبھی نہیں گھبرائے۔فلم’قانون‘میں بغیر کسی گانےکےایک سنجیدہ عدالتی کہانی پیش کرنااُس زمانے میں ایک جرات مندانہ قدم تھا۔اسی طرح گمراہ اور دھول کا پھول میں غیر شادی شدہ ماں، معاشرتی بدنامی اور انسانی رشتوں کی پیچیدگی کو نہایت سنجیدگی سے دکھایا گیا۔ان کی فلم وقت نے’ملٹی اسٹار کاسٹ‘کا رجحان متعارف کرایا، جو بعد میں بالی ووڈ کی پہچان بن گیا۔
۸۰ءکی دہائی کے آخر میں انہوں نے ٹی وی کا رخ کیا اور ’مہابھارت‘ سیریل بنایا جو ہندوستان کا سب سے مقبول اساطیری شو بنا۔ اس کے مکالمے ڈاکٹر راہی معصوم رضا نے لکھے۔انہیں۱۹۹۸ءمیںدادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور۲۰۰۱ءمیں پدم بھوشن سے نوازا گیا۔بیٹے روی چوپڑہ بھی ہدایت کار تھے۔ بھائی یش چوپڑہ نے ان سے الگ ہو کر یش راج فلمز کی بنیاد رکھی۔ بی آر چوپڑہ کا انتقال۵؍ نومبر۲۰۰۸ءکو ۹۴؍سال کی عمر میں ممبئی میں ہوا۔ ان کی آخری فلم ’بھوت ناتھ‘اسی سال ریلیز ہوئی تھی۔