صحارا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول فلم ’’اوڈیسی ‘‘ کے باضابطہ بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تنازع اس بات سے پیدا ہوا جب ڈائریکٹر کرسٹوفر نولن نے متنازع علاقے مغربی صحارا کے شہر داخلہ میں کچھ مناظر فلمائے۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 9:51 PM IST | New York
صحارا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول فلم ’’اوڈیسی ‘‘ کے باضابطہ بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تنازع اس بات سے پیدا ہوا جب ڈائریکٹر کرسٹوفر نولن نے متنازع علاقے مغربی صحارا کے شہر داخلہ میں کچھ مناظر فلمائے۔
فلم ’’دی اوڈیسی ‘‘ ممکنہ طور پر سال کی سب سے زیادہ متوقع فلموں میں سے ایک ہے، لیکن اسےصحارا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول میں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ فیسٹیول کے منتظمین نے اس فلم کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے کیونکہ اس کے کچھ مناظر متنازع علاقے مغربی صحارا میں فلمائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:انفلوئنسرز کمزور لڑکوں کو مردانہ رول ماڈلز کی تلاش میں شکار بناتے ہیں:عمران خان
تنازع کیا ہے؟
فلم ’’اوڈیسی ‘‘ ایک تاریخی ڈراما ہے جو ۱۷؍ جولائی کو دنیا بھر میں ریلیز کے لیے مقرر ہے۔ اس کے کچھ مناظرداخلہ میں فلمائے گئے ہیں، اور اس میں اداکارہ زینڈیا اور اور اداکار میٹ ڈیمن شامل ہیں۔ یہ معدنی وسائل سے مالا مال سابقہ ہسپانوی کالونی۱۹۷۵ء سے زیادہ تر مراکش کے کنٹرول میں ہے، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق اسے ایک غیر خود مختار علاقہ سمجھا جاتا ہے۔مراکش اورالجیریا کی حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے، جو صحراوی عوام کی آزادی چاہتی ہے۔
فیسٹیول نے بیان میں کہا’’جب کرسٹوفر نولن پریمیئر کے ریڈ کارپیٹ پر قدم رکھیں گے تو وہ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر صحراوی عوام کے اپنے علاقے اور وسائل پر حق کی خلاف ورزی پر بھی قدم رکھ رہے ہوں گے، جن کا مبینہ طور پرمراکش کی طرف سے غیر قانونی طور پر استحصال کیا جا رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صحارا فلم فیسٹیول عوام سے عمومی بائیکاٹ کی اپیل کرتا ہے کیونکہ کرسٹوفر نولن نے داخلہ کو فلم کی شوٹنگ کے لیے منتخب کیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:فیفا نے امریکی سٹار بالوگن پر لگی پابندی معطل کر دی، بلجیم کا فیصلے پر احتجاج
نولن کو پہلے بھی درخواست کی گئی تھی
صحارا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ، جو الجزائر میں قائم صحراوی مہاجر کیمپوں میں منعقد ہوتا ہے، نے گزشتہ سال بھی کرسٹوفر نولن سے درخواست کی تھی کہ وہ ان علاقوں میں فلمائے گئے مناظر کو شامل نہ کریں۔ ہسپانوی اداکارجاویئر برڈیم کو فیسٹیول کے بیان میں یہ کہتے ہوئے نقل کیا گیا کہ’’میں نولن کو مشورہ دوں گا کہ وہ صحراوی عوام کے خلاف مراکش حکومت کے جبر کی تاریخ کو سمجھیں۔‘‘ مراکش کا مؤقف ہے کہ ویسٹرن صحارا اس کی ریاست کا لازمی حصہ ہے اور وہ اسے ایک خود مختار علاقے کے طور پر انتظام دینے کی تجویز دیتا ہے۔ دوسری جانب پولیساریو فرنٹ ایک ریفرنڈم کے ذریعے خود ارادیت کے حق کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔