Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیمسن کی جگہ بُمراہ کو ملنا چاہیے تھا پلیئر آف دی ٹورنامنٹ : اے بی ڈی ویلیئرس

Updated: March 12, 2026, 9:31 PM IST | New Delhi

ہندوستانی کرکٹ ٹیم ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی چمپئن گئی ہے۔ فائنل میں نیوزی لینڈ کو ۹۶؍ رنز سے شکست دے کر ٹیم انڈیا چمپئن بنی۔ ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز سنجو سیمسن کو پلےئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز ملا۔ تاہم اس حوالے سے جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی ڈی ویلیئرس کی رائے مختلف ہے۔

A B Develliers.Photo:INN
اے بی ڈی ویلیئرس۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی کرکٹ ٹیم ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی  چمپئن گئی ہے۔ فائنل میں نیوزی لینڈ کو ۹۶؍ رنز سے شکست دے کر ٹیم انڈیا چمپئن بنی۔ ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز سنجو سیمسن کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز ملا۔ تاہم اس حوالے سے جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی  ڈی ویلیئرس کی رائے مختلف ہے۔

اے بی  ڈی ویلیئرس نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ ’’ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے لیے جسپریت بُمراہ اور سنجو سیمسن کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ ٹورنامنٹ کے دوران کچھ ایسے لمحات آئے جب بُمراہ کی بولنگ دیکھ کر مجھے لگا کہ انہیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا جا سکتا تھا۔‘‘

 


 اے بی  ڈی ویلیئرس نے بتایا کہ ’’بُمراہ نے سب سے زیادہ  وکٹ  حاصل کئے اور اسی وجہ سے وہ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے مضبوط امیدوار تھے۔ ان کے کچھ خاص اوورز اور لمحوں میں کارکردگی نے  ہندوستان  کے لیے سب سے اہم کردار ادا کیا۔‘‘ اے بی  ڈی ویلیئرس نے کہا کہ ’’ ہندوستان  میں فاسٹ بولر کے طور پر بولنگ کرنا آسان نہیں ہے، جب تک کہ آپ بُمراہ نہ ہوں۔ وہ ضروری وقت پر ایک الگ گیئر میں چلا جاتا ہے اور میچ بدل دیتا ہے۔ وہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی ملکیت پر نماز پڑھنے والے شخص کے تحفظ کا حکم دیا

ورلڈ کپ میں  ہندوستان  کے لیے ۸؍ میچوں میں بُمراہ نے ۱۴؍ وکٹ حاصل کئے۔ وہ مشترکہ طور پر وِرون چکرورتی کے ساتھ سب سے اوپر ہیں۔ تاہم وِرون نے بُمراہ سے ایک میچ زیادہ کھیلا تھا۔ بُمراہ کی اکنامی بھی وِرون کے مقابلے میں انتہائی مؤثر رہی۔ ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن میچوں میں بُمراہ نے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کے بڑے ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے شاندار کارکردگی پیش کی۔

یہ بھی پڑھئے:اس سے بہتر کوئی احساس نہیں،یکے بعد دیگرے ۲؍ورلڈ کپ جیتنے پر بُمراہ کا بیان

جہاں تک سنجو سیمسن کی بات ہے، اس وکٹ کیپر بلے باز نے اپنے بلہ  سے مؤثر کارکردگی پیش کرتے  ہوئے  ہندوستان  کو عالمی چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سنجو نے صرف ۵؍ میچز کھیلے اور تقریباً ۲۰۰؍ کی اسٹرائیک ریٹ سے ۳۲۱؍ رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف کوارٹر فائنل میں ۹۷، سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ۸۹؍رن اور فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ۸۹؍ رنز کی یادگار اننگز کھیلنے کی وجہ سے انہیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK