تینوں ہی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، بہار کے بانکی پور کی سیٹ نتن نبین کی وجہ سے خالی ہوئی ہے جہاں بی جےپی امیدوار کا مقابلہ پرشانت کشور سے ہے، ایم پی کے دتیا کی سیٹ کانگریس کی تھی۔
EPAPER
Updated: July 29, 2026, 9:56 AM IST | New Delhi
تینوں ہی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، بہار کے بانکی پور کی سیٹ نتن نبین کی وجہ سے خالی ہوئی ہے جہاں بی جےپی امیدوار کا مقابلہ پرشانت کشور سے ہے، ایم پی کے دتیا کی سیٹ کانگریس کی تھی۔
نئی دہلی (آئی این این):تین ریاستوں کے تین اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونے جارہا ہے جس کی تیاریاں پوری ہوچکی ہیں اور انتخابی مہم بھی ختم ہوگئی ہے ، البتہ اسی کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیڈران کی نیند بھی اُڑ گئی ہے۔ سب سے زیادہ بی جے پی کی حالت خراب ہے کیونکہ تینوں ہی ریاستوں میں اس کی حکومت ہے اور طلبہ کے ملک گیر مظاہرے کے بعد اس کا خوف زدہ ہونا فطری ہے۔ مدھیہ پردیش (دتیا)، بہار (بانکی پور) اور گجرات (منجول پور) کےتینوں اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے ووٹنگ۳۰؍ جولائی کو ہوگی۔ ان تینوں ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان ۳؍ اگست کو کیا جائے گا۔ جنتر منتر کے ساتھ ہی بہار میں جس طرح کے مظاہرے ہوئے ہیں،اس کی وجہ سے عوامی غصہ پوری طرح سے دکھائی دے رہا ہے، ایسے میں خیال کیا جاتا ہے کہ عوام کا وہ غصہ ای وی ایم پر بھی نظر آئے گا کیونکہ سی جے پی (کاکروچ جنتا پارٹی) کی تحریک کسی نہ کسی حوالے سے ہنوز جاری ہے۔
بی جے پی کو ڈراسی بات کا ہے کہ جن تین اسمبلی حلقوں کیلئے ووٹنگ ہوگی، ان میں اُسی کی حکومت ہے۔ اگر نتیجہ اس کے خلاف آیا تو اسے ریاستی حکومت کے ساتھ ہی مرکز کے خلاف بھی سمجھا جائے گا۔ بی جے پی مدھیہ پردیش، گجرات اور بہار میں (اشتراک کے ساتھ ہی سہی) طویل عرصے سے اقتدار میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیپر لیک ترمیمی بل پر لوک سبھا میں گرما گرم بحث
کہا جاتا ہے کہ دتیا کی وجہ سے نہ صرف وزیر اعلیٰ موہن یادو بلکہ پوری پارٹی ڈری ہوئی ہے۔ اگر بی جے پی دتیا سیٹ ہار جاتی ہے تو یہ مدھیہ پردیش اور پورے ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ طلبہ پر لاٹھی چارج کے بعداُسی ماحول میں دتیا ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی شکست پر کانگریس کی جیت سے زیادہ بحث کی جائے گی۔ اپوزیشن بھی نیا بیانیہ حاصل کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دتیا میں جیت کیلئے بی جے پی کچھ بھی کرسکتی ہے۔دلچسپ بات ہے کہ ٹکٹ نہ ملنے سے ہنگامہ برپا کرنےوالے نروتم مشرا بھی اب پارٹی امیدوار اشوتوش تیواری کیلئے مہم چلا رہے ہیں۔
گجرات کے منجول پور اسمبلی حلقے میں بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے ہے۔ یہاں بی جے پی نے ستیش پٹیل کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ کانگریس نے بڑودہ کی سیاست کے بڑے چہرے بھیکھا بھائی رباری کو میدان میں اتارا ہے۔ بھیکھا بھائی ۱۹۷۵ء سے ۱۹۸۵ء تک ایم ایل اے تھے۔ فی الحال منجول پور چار دہائیوں سے بی جے پی کا گڑھ رہا ہے۔ یہ سیٹ بی جے پی لیڈر یوگیش پٹیل کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔ بی جے پی کو دوبارہ جیتنے کا چیلنج درپیش ہے۔
اسی طرح بہار کے بانکی پور پر صرف بہار نہیں بلکہ پورے ملک کی نظریں لگی ہوئی ہیں کیونکہ یہ سیٹ بی جے پی کے صدر نتن نبین کے استعفیٰ سے خالی ہوئی ہے ۔ یہاں بی جے پی نے نیرج کمار سنہا کو امیدوار بنایا ہے جن کا مقابلہ پرشانت کشور اور آر جے ڈی کی ریکھا گپتا سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: پرفل پٹیل کی شرد پوار سے ملاقات ، پھر چہ میگوئیاں
مدھیہ پردیش کے دتیا میں بی جے پی کی حالت نازک
دتیا اسمبلی حلقے میں، بی جے پی نے اپنے مضبوط لیڈر نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ دے کرایک نئے برہمن امیدوار آشوتوش تیواری کو میدان میں اتارا ہے۔ کانگریس کے گھنشیام سنگھ پارٹی کیلئے اس سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ سیٹ کانگریس ایم ایل اے راجندر بھارتی کی رکنیت ختم ہو جانے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ بھارتی کو ۱۹۹۸ء کے بینک فراڈ کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس انتخابی حلقے سے ۲۰۱۸ء میں ۴۹؍ فیصد ووٹوں کےساتھ نروتم مشرا جیتے تھے اور ریاستی وزیر داخلہ بنائے گئے تھے لیکن ۲۰۲۳ء کے الیکشن میں وہ بھارتی سے تقریباً ۸؍ ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ بی جے پی نے نروتم کو ٹکٹ نہیں دیا تو ان کے حامیوں نے حلقے میں ہنگامہ برپا کردیا تھا لیکن بعد میں بی جے پی نے انہیں کسی طرح سے ’منا لیا‘ ہے۔