• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک معتبر ادارہ جس پر اب اعتبار نہیں

Updated: September 30, 2026, 3:42 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

جنوری ۲۰۰۱ء میں الیکشن کمیشن کی گولڈن جوبلی پرصدر آر کے نارائنن نے کہا تھا کہ عوام کو پولیس، بیوروکریسی، سیاسی پارٹیوں، مرکزی حکومت یہاں تک کہ عدلیہ سے بھی زیادہ الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے۔ لیکن موجودہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے عوام دشمن اقدامات سے اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 پچھلے ہفتے معروف روزنامہ انڈین ایکسپریس میں مطبوعہ تحقیقاتی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کی بے ضابطگیوں کا کچا چٹھا کھولے جانے پر ملک بھرمیں جو سیاسی طوفان برپا ہوا تھا وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔راہل گاندھی ہوں یا تیجسوی یادو، اروند کیجریوال ہوں یا ممتا بنرجی اپوزیشن رہنما پچھلے دو سال سے یہ الزام لگاتے آرہے ہیں کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بڑے پیمانے پرانتخابی دھاندلی اور ووٹ چوری ہورہی ہے۔ اس رپورٹ نے ان الزامات کی تصدیق کردی۔ گیانیش کمار کے خلاف تنقید کوئی نئی نہیں ہے۔ ان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور شفافیت مسلسل زمین بوس ہورہی ہے۔گیانیش آزاد ہندوستان کی تاریخ کے پہلے چیف الیکشن کمشنر ہیں جن کے مواخذے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں (مارچ میں) نوٹس جمع کروائی۔
 یوں تو پچھلے دس بارہ برسوں میں ملک کے تقریباً سبھی آئینی اور جمہوری اداروں کی آبرو پر آنچ آئی ہے تاہم الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ساکھ جس بری طرح گری ہے وہ بے حد شرمناک ہے۔ جنوری ۲۰۰۱ء  میں الیکشن کمیشن کی گولڈن جوبلی پرصدر آر کے نارائنن نے قوم کو یاد دلایا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں چاروں طرف ناخواندگی اور مفلسی پھیلی ہوئی تھی ہر بالغ شہری کو ووٹنگ کا حق عطا کرنا ہندوستان کے معماروں کا ایک بڑا کارنامہ بلکہ انقلابی اقدام تھا۔نارائنن نے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو پولیس، بیوروکریسی، سیاسی پارٹیوں، مرکزی حکومت یہاں تک کہ عدلیہ سے بھی زیادہ الیکشن کمیشن پر اعتماد تھا۔  

یہ بھی پڑھئے:تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے!

الیکشن کمیشن کو ماضی میں یہ قومی وقار اور عوامی اعتماداس کی بہترین کارکردگی اور غیر جانبداراری کی وجہ سے حاصل ہوا تھا۔آج اگر وہ عوام کی نظروں سے گر گیا ہے تو اس کی وجہ اس کی ناقص کارکردگی اور جانبدارانہ رویہ ہے۔ گیانیش کمار نے خصوصی نظر ثانی(SIR) نام کا جو عفریت سارے ملک پر مسلط کیا ہے اس نے ایک قیامت برپا کررکھی ہے۔ بہارمیں پچھلے سال اسمبلی الیکشن کے قبل شروع کئے گئے اس متنازع اور متعصبانہ عمل میں اب تک سارے ملک میں تیرہ کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام رائے دہندگان کی فہرست سے کاٹے جاچکے ہیں۔ ایس آئی آر میں دلی کے ڈیڑھ کروڑ ووٹروں میں سے آدھے سے زیادہ کے نام یا تو کاٹے جاچکے ہیں یا ان کے ناموں پر تلوار لٹک رہی ہے۔سیانے اکثر یہ کہتے ہیں کہ اگر رستہ صحیح نہیں ہوگا تو صحیح منزل نہیں ملے گی۔ الیکشن کمیشن نے تودانستہ منزل ہی غلط چنی تھی۔ اس لئے اگر اس نے ایک کے بعد ایک غلط راستوں کا انتخاب کیا تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ ماضی میں الیکشن کمیشن کا یہ نصب العین ہوتا تھا کہ ہر بالغ ہندوستانی شہری کو اس کے ووٹ دینے کا آئینی حق مل سکے۔گیانیش کا نصب العین غالباً اس کے بالکل برعکس ہے: زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ان کے ووٹ دینے کے آئینی حق سے محروم کردیا جائے۔ پہلے ووٹر لسٹ میں آسانی سے نئے ناموں کا اندراج ہو جاتا تھا۔الیکشن کمیشن کسی شہری کواپنی شہریت، ولدیت، شناخت ثابت کرنے کیلئے ایسی دستاویزات دکھانے کا مطالبہ نہیں کرتا تھا جن کا حصول مشکل ہو۔۱۸؍ سال کی عمر کا ہوتے ہی کوئی شہری فارم ۶ ؍کے ذریعہ آسانی سے ووٹرلسٹ میں اپنا نام درج کراسکتا تھا۔اب گیانیش کے نئے تغلقی حکم کی وجہ سے درخواست کنندہ کو فارم ۶؍ میں یہ لازمی طور پر بتانا ہوگا کہ کیا اس کے والدین یا والدین کے والدین کے نام پچیس سال قبل ہوئے ایس آئی آر میں شامل تھے یا نہیں۔
گیانیش کمارکے دونوں ساتھی کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور  وویک جوشی نے فارم ۶؍میں کی گئی اس تبدیلی کو’’ غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے باہر‘‘  قراردیتے ہوئے اس پر سخت اعتراض جتایا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے گیانیش کمارکے متعدد دیگر من مانے فیصلوں کے خلاف بھی چودہ بار تحریری اعتراضات درج کرائے لیکن ان کی ایک نہیں سنی گئی۔ووٹر لسٹ میں اپنے نام شامل کرانے کے لئے نئے ووٹروں کو جتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا پرانے ووٹروں کو لسٹ میں نام برقرار رکھنے کے لئے ان سے کم مصائب نہیں جھیلنے پڑے۔ گیانیش کمار کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ یا پاسپورٹ ان میں سے کوئی بھی دستاویز آپ کو ہندوستانی شہری ثابت نہیں کرسکے گی۔آج آپ کی شناخت اور شہریت کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے ایک ادنیٰ سے افسر اور کمپیوٹر سسٹم کے ایک حقیر سے سافٹ وئیر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔پہلے ووٹروں کے ناموں کا اندراج یا ان میں ردوبدل اسمبلی حلقہ کا مقامی افسر جسے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر(ERO) کہا جاتا ہے، کرتا تھا۔  گیانیش نے ستم یہ کیا   کہ ERO سے یہ اختیار چھین کر دلی میں  واقع  ECINET نام کے ڈیٹا سینٹر کے حوالے کر دیا۔ مصنوعی ذہانت(AI) کے ہاتھوں میں گوشت پوست سے بنے حقیقی شہریوں کی قسمت کا فیصلہ سونپ دیئے جا نے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً ۱۳؍کروڑ نام لسٹ سے اڑا دیئے گئے۔معاملہ صرف ووٹنگ کا حق چھینے جانے کا نہیں مسئلہ اس سے زیادہ گمبھیر ہے۔ ووٹر لسٹ میں نام کی عدم موجودگی میں پاسپورٹ کی تجدید نہیں ہوسکے گی، سرکار کی فلاحی اسکیموں سے محروم کردیا جائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی دن اس شخص کو گھس پیٹھیا کہہ کر گرفتار کرکے حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے یا کوئی متعصب پولیس والا اسے بنگلہ دیش کی سرحد کے پار دھکیل دے۔  

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت ایک عظیم انقلاب ہے، اس کو روکنا نہ ممکن ہے، نہ ہی ضروری

اس افسوسناک صورتحال کے لئے الیکشن کمیشن ذمہ دار ہے لیکن اگر سپریم کورٹ نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہوتی تو ہمیں یہ دن دیکھنا نہیں پڑتے۔ گیانیش کمار کواگر عدالت عظمیٰ سے کھلی چھوٹ نہیں ملی ہوتی تو ان کو ایس آئی آر کے عمل میں اتنی دھاندلیاں بلکہ فراڈ کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ مغربی بنگال میں لاکھوں ووٹروں کا آئینی حق ان سے چھین لیا گیالیکن عدالت عظمیٰ نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ ایک آنریبل جج نے کہ دیا کہ اگر اس بار ووٹ نہیں دیا تو کوئی حرج نہیں اگلی بار ووٹ دینے کا موقع ملے گا۔ گویا رائے دہندگی ایک مقدس جمہوری فریضہ نہیں بلکہ کوئی معمولی کام ہو۔ یہ ایسا ہی تھا گویا کوئی کہے کہ اگر نئی فلم کا میٹنی شو کا ٹکٹ نہیں ملا تو کیا ہوا، ایوننگ شو دیکھ لینا۔
 پس نوشت: ایس آئی آر نام کے چھلاوہ کی آڑ میں الیکشن کمیشن نے پچھلے ڈیڑھ برس میں حقیقی شہریوں کے آئینی حق پر جو ڈاکہ ڈالا اور جمہوریت کی بیخ کنی کی اس کیلئے گیانیش کی گرفتاری کا مطالبہ زور پکڑرہا ہے۔ بنگال میں دسمبر سے مارچ تک ایس آئی آر کی دہشت سے ایک سو سے زیادہ بے گناہ لوگ یا تو دل کا دورہ پڑنے سے مرگئے یا انہوں نے خودکشی کرلی۔ ان مظلومین کی روحیں پوچھ رہی ہیں کہ:  ’’وہ کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کریں!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK