انگلینڈ کے ہاتھوں ۰۔۳؍ کی شرمناک شکست کے بعد پاکستان ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، بابر اعظم کی قیادت میں نوجوان کھلاڑیوں کو صلاحیت دکھانے کا موقع؛ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ ۹؍ نومبر سے شروع ہوگا۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 7:03 PM IST | Rawalpindi
انگلینڈ کے ہاتھوں ۰۔۳؍ کی شرمناک شکست کے بعد پاکستان ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، بابر اعظم کی قیادت میں نوجوان کھلاڑیوں کو صلاحیت دکھانے کا موقع؛ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ ۹؍ نومبر سے شروع ہوگا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم سری لنکا کے خلاف پیر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں نئی شروعات کے لیے پُرعزم ہیں۔ انگلینڈ کے دورے پر ۳-۰ سے وائٹ واش کی مایوس کن شکست کے بعد پاکستانی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس مرتبہ کئی نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔ دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل یہ سیریز پاکستان کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنانے، ٹیم کا نیا امتزاج تیار کرنے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں واپسی کی کوششوں کے لحاظ سے اہم سمجھی جارہی ہے۔ بابر اعظم نے اتوار کو پری سیریز پریس کانفرنس میں کہا کہ انگلینڈ کے دورے کے بعد ٹیم نے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:میٹ گالا ۲۰۲۷ء کے نئے تھیم کا اعلان، جان گیلیانو کی نمائش پر تنازع
پاکستانی ٹیم میں یہ تبدیلیاں انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد کی گئی ہیں، جہاں پاکستان کو تینوں میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دورے کے دوران دوسرے ٹیسٹ کے بعد سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ستمبر میں ٹیم کے کوچنگ نظام میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی۔ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا جبکہ وائٹ بال ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ اب نئی انتظامیہ اور نئے کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستان ٹیم ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ سری لنکا کے خلاف اعلان کردہ ۱۶؍ رکنی پاکستانی ٹیم میں متعدد نئے چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔ حالیہ تبدیلیوں کے بعد عامر جمال کی واپسی ہوئی ہے، جبکہ علی شبیر، محمد طیب عارف اور ثاقب خان کو بھی ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔ ان کھلاڑیوں کے لیے یہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اہم موقع ہوگا۔ اس کے علاوہ محمد طٰہٰ، سمیر منہاس اور محمد سلیمان جیسے نوجوان بلے باز بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب محمد رضوان، سابق کپتان شان مسعود، امام الحق اور اسپنرز ساجد خان و نعمان علی سمیت کئی تجربہ کار کھلاڑی اس سیریز کے لیے منتخب نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے:میسی نے تاریخ رقم کردی، مسلسل دو سیزن گولڈن بوٹ جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق عامر جمال نے حالیہ پریذیڈنٹس ٹرافی کے فائنل میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔ انہوں نے ۳۲؍ رن دے کر ۷؍ وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ بلے بازی میں نصف سنچری بھی بنائی، جس کے بعد ان کی ٹیم میں واپسی ہوئی۔ نوجوان بلے باز طیب عارف نے بھی ڈپارٹمنٹل فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں ۷؍ میچوں کے دوران ۷۲۷؍ رن بنائے، جن میں تین سنچریاں شامل تھیں۔ ثاقب خان نے قائداعظم ٹرافی میں ۹؍ میچوں کے دوران ۴۷؍ وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ ان کھلاڑیوں کی شمولیت سے پاکستانی ٹیم کے بولنگ اور بیٹنگ شعبوں میں نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
بابر اعظم کے لیے یہ سیریز ذاتی اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ گزشتہ ۴۰؍ ٹیسٹ اننگز سے سنچری بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی آخری سنچری دسمبر ۲۰۲۲ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں بنی تھی۔ بابر نے کہا کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کے کچھ میچ کھیلے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مسلسل کھیلنے سے ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ہر میچ میں بہترین کارکردگی پیش کرنا ان کی کوشش ہوتی ہے اور وہ اپنی غلطیوں سے سیکھ کر کوچز کے ساتھ ان پر کام کررہے ہیں۔
کپتانی اور ٹیم کے انتخاب سے متعلق سوال پر بابر نے واضح کیا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب سلیکٹرز اور کوچ کی ذمہ داری ہے، جبکہ ان کا کام دستیاب کھلاڑیوں سے بہترین کارکردگی حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں سینئر اور نوجوان کھلاڑیوں کا مناسب امتزاج بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ نئے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے۔ بابر کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں میں اعتماد اور صلاحیت موجود ہے اور سینئر کھلاڑی دباؤ کے لمحات میں انہیں اپنے تجربات سے رہنمائی فراہم کریں گے۔