• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگر کسی تارکِ وطن کے بچے کو موقع دیا جائے تو وہ کیا کچھ کرسکتا ہے:اسکیپٹا

Updated: November 08, 2026, 7:03 PM IST | New York

برطانوی ریپر نے نئے البم ’’دی فورک اینڈ نائف‘‘ میں امیگریشن، نسل پرستی اور کثیرالثقافتی معاشرے کے موضوعات اٹھائے، برطانوی معاشرے میں تارکینِ وطن کے کردار پر کھل کر اظہارِ خیال

Skepta.Photo:X
اسکیپٹا۔ تصویر:ایکس

برطانیہ کے معروف ریپر اور گریمی ایوارڈ یافتہ موسیقار اسکیپٹا (Skepta) نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ اگر کسی تارکِ وطن خاندان کے بچے کو آگے بڑھنے کا مناسب موقع دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے بل پر عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی اور موسیقی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ تارکینِ وطن کے بچوں کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے قابلِ فخر مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ اسکیپٹا نے یہ خیالات اپنے نئے البم ’دی فورک اینڈ نائف‘ (The Fork and Knife) کی ریلیز کے موقع پر بی بی سی نیوزبیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ظاہر کیے۔ یہ ۲۰۱۹ء میں ریلیز ہونے والے ان کے البم ’اِگنورنس اِز بلس‘ کے بعد ان کا پہلا البم ہے، جس کی تیاری میں طویل وقت لگا ہے۔ اس البم میں انہوں نے امیگریشن، نسل پرستی، بریگزٹ اور ثقافتی اختلافات جیسے اہم سماجی موضوعات کو موسیقی کا حصہ بنایا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ناگپور: چوکیدار کی اسامی کیلئے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدوار بھی میدان میں!

اسکیپٹا کا اصل نام جوزف اولیتان اڈینوگا جونیئر ہے۔ وہ شمالی لندن کے علاقے ٹوٹنہم میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ ان کے والدین کا تعلق نائیجیریا سے ہے اور وہ ملک میں خانہ جنگی کے حالات سے بچ کر برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔ اسکیپٹا کے مطابق تارکِ وطن خاندان میں پرورش پانے کے تجربات نے ان کی شخصیت، سوچ اور فن پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان زندگی گزارنے والے بچوں کا دنیا کو دیکھنے کا انداز منفرد ہوتا ہے۔ ان کے بقول برطانیہ کی اصل شناخت اس کی کثیرالثقافتی سماجی ساخت میں ہے اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملک کی تہذیب اور معاشرت کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنی موسیقی کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تارکِ وطن بچے بھی مواقع ملنے پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ کسی سیاسی مہم کا حصہ بننے سے پہلے ہی برطانیہ میں کثیرالثقافتی معاشرے کی حمایت میں اپنا موقف واضح کرنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ برطانوی گرائم موسیقی خود بھی امیگریشن اور مختلف ثقافتوں کے باہمی میل جول کا نتیجہ ہے۔ اس موسیقی کی ابتدا اور ترقی میں ایسے فنکاروں کا اہم کردار رہا ہے جن کا تعلق تارکِ وطن خاندانوں سے ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سنجیو کمار کریئر بنانے سے قبل ڈراموں کیلئے اسٹیج پر پردے کھینچا کرتے تھے

اسکیپٹا کے نئے البم کا گیت ’اِنوسنٹ اسمایل‘   خاص طور پر امیگریشن اور تارکینِ وطن کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کے موضوع پر مبنی ہے۔ اس گیت میں انہوں نے تارکِ وطن بچوں کے احساسات، معاشرتی امتیاز اور سیاسی ماحول پر سوالات اٹھائے ہیں۔ گیت میں بریگزٹ اور کووڈ وبا کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بعض اوقات تارکینِ وطن کو معاشرتی مسائل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔اس گیت میں برطانوی موسیقی کے معروف گروپ چیس اینڈ اسٹیٹس   اور بینڈ میڈنیس کے گلوکار سَگس نے بھی تعاون کیا ہے۔ اسکیپٹا نے بتایا کہ وہ اپنے گیتوں کے بول لکھنے میں خاصی محنت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ ان کی موسیقی اور اس کے پیغامات وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھیں۔
اسکیپٹا کے موسیقی کے سفر میں ۲۰۰۹ء کا گیت ’ریفلیکٹنگ‘ ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس گیت میں انہوں نے اپنے مشکل بچپن اور ایک کامیاب موسیقار بننے کے سفر کو بیان کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ان کے لیے پہلا موقع تھا جب انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی حقیقی زندگی کے جذبات کو بغیر کسی بناوٹ کے موسیقی میں پیش کرسکتے ہیں اور سامعین بھی ان احساسات سے خود کو جوڑ سکتے ہیں۔ وہ برطانوی گرائم موسیقی کے اہم بانیوں اور اسے عالمی سطح پر مقبول بنانے والے فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے البم ’کونیچیوا‘ (Konnichiwa) نے ۲۰۱۶ء میں معروف مرکری پرائز حاصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں برٹ ایوارڈ اور دو آئیور نوویلو ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ گلاسٹنبری اور ریڈنگ اینڈ لیڈز جیسے بڑے موسیقی میلوں میں بھی ہزاروں مداحوں کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK