Updated: May 20, 2026, 1:02 PM IST
|
Ahmedullah Siddique
| New Delhi
ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعدمسلمانوں کے احتیاطی اقدام سے تاجروں کو نقصان کا اندیشہ ، حکومت کے تئیں ناراضگی ،فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ۔
مغربی بنگال میں مویشی پروری سے وابستہ خواتین کاروبار متاثر ہونے کے خوف سے پریشان ہیں-تصویر:آئی این این
مغربی بنگال میں شوبھندو ادھیکاری کی قیادت والی بی جےپی حکومت کے فیصلوں نے ریاست میں عیدالاضحی سے قبل مویشی تاجروں کو سخت پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق برادران وطن سے ہے۔ اب وہ حکومت کودہائیوں قدیم ذبیحہ کنٹرول ایکٹ ۱۹۵۰ء کے نفاذ کیلئے سخت تنقید کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس تعلق سے کئی ویڈیوز وائرل ہورہے ہیں جن میں کسان اور مویشی تاجر حکومت کے فرمان کی جم کر مخالفت کررہے ہیں۔ان ویڈیوز میں خواتین کہہ رہی ہیں کہ انہوںنے بینک سے لون لے کر اور اپنے زیورات کو گروی رکھ کر مویشی خریدا تھا کہ عیدالاضحی کے موقع پر انہیں اس کی اچھی قیمت ملے گی۔انہوں نے ان مویشیوں کوخوب کھلا پلاکرفربہ اور صحت مند کیا،لیکن اب حکومت نے جس قانون کو نافذ کیا ہے،اس کی رو سے گائے اور بھینس کا ذبیحہ صرف سرکاری سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے جس میں اس کی تصدیق ضروری ہے کہ مویشی کی عمر ۱۴؍ سال سے زائد ہو،مستقل طور پر معذور یا قانونی طور پر ذبح کیلئے موزوں ہو۔
ریاستی حکومت اس قانون کے نفاذ کے بعد مویشی منڈیوں پر کارروائی بھی کررہی ہےجس کی وجہ سے مسلمان عید قرباں سے قبل بڑے جانوروں کو خریدنے سے گریز کررہے ہیں۔اس نے مغربی بنگال میںاکثریتی برادری کے اس طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جو زراعت اور مویشی پروری پر انحصارکرتے ہیں۔ خود ریاست میں مسلمانوں کے ذریعہ یہ اپیل کی جارہی ہے کہ لوگ ان جانوروں کی خریداری سے گریز کریں جو ممنوعہ ہیں اور جن سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے ریاست کے دیہی علاقوں میں مویشی پروری کے ذریعہ روزی روٹی کا انتظام کرنے والوں میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے۔بہت سے کسان مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومت اس طرح کا فیصلہ نافذ کرنے سے بہتر ہے کہ انہیں زہر دے دے۔
ان کسانوں کی شکایت ہے کہ عید قرباں پر ان کے مویشیوں کو نہ خریدے جانے کی صورت میں نہ تو وہ بینک سے لئے گئے قرضوں کی ادائیگی کرپائیں گے، نہ ہی خود ان کے گھر کا خرچہ چل سکے گا۔ایک ویڈیو میں مویشی تاجر کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’بی جے پی ہمیں اپنی گائے مسلمانوں کو بیچنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہی؟ میں نے بقرعید کیلئے ان جانوروں کو پالنے اور بیچنے کیلئے پانچ لاکھ روپے کا قرض لیا۔ مسلمانوں نے ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ بی جے پی ہمیں مسلمانوں کے ساتھ فروخت اور تجارت کرنے سے کیوں روک رہی ہے؟اس سے بہتر ہے کہ ہمیں زہر دے دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر چل رہے ان ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ایک ہندو نوجوان گائے لے کر مسلمانوں کے درمیان اسے فروخت کیلئے لاتا ہے تومسلمان اس سے سوال کررہے ہیں کہ جب گائے ا ن کیلئے ماں کا درجہ رکھتی ہے تو وہ کیوں فروخت کرنے آیا ہے، مسلمان گائے نہیں خریدیں گے کیونکہ انتظامیہ نے منع کررکھا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلمان گائے کے ساتھ برا سلوک کرنے پر احتجاج کررہے ہیں۔ایک ہندو نوجوان نے گایوں کوایک گاڑی میں رسی سے باندھ رکھا ہے،اس پر مسلمان کہہ رہے ہیں کہ اگر گائیں تمہارے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہیں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو زمیں دیکھا جاسکتا ہے کہ مویشی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر کسان اپنے مویشیوں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن انہیں کوئی خریدار نہیں مل رہا ہے۔ ایسے میں وہ کسان جن کا انحصار مویشی پر پروری پر ہے وہ دیوالیہ پن کے دہانے پر آچکے ہیں۔