Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کے مقابلے میں چین کی خفیہ طاقت،سستی بجلی نے اے آئی جنگ کا رخ بدل دیا

Updated: May 29, 2026, 3:26 PM IST | Washington

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی دوڑ میں اگرچہ امریکہ جدید ترین چپس اور سیمی کنڈکٹرز میں سبقت رکھتا ہے، لیکن ایک ایسا شعبہ بھی ہے جہاں چین واضح برتری حاصل کر چکا ہے اور وہ ہے سستی اور وافر بجلی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی دوڑ میں اگرچہ امریکہ جدید ترین چپس اور سیمی کنڈکٹرز میں سبقت رکھتا ہے، لیکن ایک ایسا شعبہ بھی ہے جہاں چین واضح برتری حاصل کر چکا ہے اور وہ ہے سستی اور وافر بجلی۔  
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کو چلانے کے لیے دیوہیکل ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں، جو بے پناہ مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں، ایک عام ڈیٹا سینٹر تقریباً ایک لاکھ گھروں جتنی بجلی خرچ کرتا ہے جبکہ جدید ہائپر اسکیل مراکز ۲۰؍ لاکھ گھروں کے برابر توانائی استعمال کرسکتے ہیں۔چین اس وقت امریکہ کے مقابلے میں دگنے سے زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے، جبکہ آئندہ ۵؍ برسوں میں یہ فرق مزید بڑھنے کی توقع ہے۔  

یہ بھی پڑھئے : بنگلہ دیش: ’’ڈونالڈ ٹرمپ‘‘ نامی بھینس کی قربانی حکومتی مداخلت پر روک دی گئی

تحقیقاتی ادارے بلومبرگ این ای ایف کے مطابق چین اگلے چند برسوں میں امریکہ سے ۶؍ گنا زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اس اضافی توانائی کا بڑا حصہ سولر اور ونڈ پاور سے حاصل کر رہا ہے، صرف ۲۰۲۵ء میں چین نے۴۳۰؍ گیگا واٹ سے زائد شمسی اور ہوائی توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جو دنیا بھر میں شامل ہونے والی نئی قابلِ تجدید توانائی کا نصف سے زیادہ بنتا ہے۔ 
 چینی کمپنی نے اڑنے والا ونڈ ٹربائن تیار کرلیا  چین کی حکومت نے ایسٹ ڈیٹا، ویسٹ کمپیوٹنگ منصوبے کے تحت نئے ڈیٹا سینٹرز ملک کے مغربی اور کم آبادی والے علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں، جہاں زمین سستی ہے اور قابلِ تجدید توانائی زیادہ دستیاب ہے۔  اسی منصوبے کے تحت حال ہی میں شمال مغربی علاقے ننگشیا میں ۵۰۰؍ میگا واٹ کے پہلے بڑے ونڈ اور سولر پراجیکٹ کا افتتاح کیا گیا، جو براہِ راست ایک کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے : امریکی قانون کے برخلاف صدر ٹرمپ کی تصویر ڈالر پر چھاپنے کی تیاریاں

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کی اصل جنگ صرف چپس کی نہیں بلکہ بجلی کی بھی ہو گی۔ چین اگرچہ جدید ترین چپس تک محدود رسائی رکھتا ہے، تاہم اس نے اپنی مقامی کمپنیوں ہواوے اور سیمی کنڈکٹر کمپنی ایس ایم آئی سی کے ذریعے متبادل نظام تیزی سے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : امریکی حمایت یافتہ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے نمائندوں کا جلد غزہ دورہ متوقع

دوسری جانب امریکہ میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی مانگ بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہی ہے۔  ماہرین کے مطابق امریکی پاور گرڈ کی محدود صلاحیت کے باعث ۲۰۲۵ء کے آخر میں نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں ۵۰؍ فیصد کمی دیکھی گئی۔ امریکی ٹیکنالوجی شخصیات ایلون مسک، سیم آلٹمین اور اینویڈیا کے جینسن ہوانگ بھی کھلے عام تسلیم کر چکے ہیں کہ چین توانائی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔  
ماہرین کے مطابق امریکہ کے پاس جدید چپس ہیں مگر توانائی کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ چین کے پاس وافر بجلی موجود ہے لیکن وہ اب بھی جدید چپس کی دوڑ میں پیچھے ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK