Updated: April 15, 2026, 4:03 PM IST
| Mumbai
سنیما کون ۲۰۲۶ء میں ’’رامائن‘‘ کے پروڈیوسر نمت ملہوترا نے کہا کہ ’’رامائن‘‘ عالمی سطح پر نئی دلچسپی حاصل کر رہی ہے کیونکہ ناظرین اب تازہ اور مختلف کہانیوں کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلم کو جدید انداز میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سامعین کے ساتھ بھی جڑ سکے۔
نمت ملہوترا۔ تصویر: آئی این ابن
لاس اینجلس میں منعقدہ CinemaCon 2026 کے دوران، معروف فلم پروڈیوسر نمت ملہوترا نے اپنی آنے والے فلمی پروجیکٹ ’’رامائن‘‘ کی عالمی اہمیت اور اس کی بڑھتی ہوئی کشش پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کے عالمی ناظرین اب ایسی کہانیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جو انہیں کچھ نیا، مختلف اور جذباتی طور پر متاثر کرنے والا تجربہ فراہم کریں،اور ان کے مطابق رامائن میں یہ تمام عناصر فطری طور پر موجود ہیں۔ نمِت ملہوترا نے اداکار یش کے ساتھ، جو فلم میں راون کا کردار ادا کر رہے ہیں، اس بات پر بھی گفتگو کی کہ کس طرح ایک قدیم داستان کو جدید سنیما کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کہانی کے بنیادی موضوعات،نیکی، برائی، قربانی اور اخلاقی کشمکش،اتنے آفاقی ہیں کہ ہر دور اور ہر معاشرے میں اپنی معنویت برقرار رکھتے ہیں۔
امریکی میڈیا پلیٹ فارم فین ڈینگو سے گفتگو کرتے ہوئے نمِت ملہوترا نے کہا کہ ’’یہ بات میرے لیے دلچسپ تھی کہ امریکہ میں کسی نے مجھ سے کہا،آپ ہمیں دنیا کی شاید پہلی کہانی یا کائنات کی ابتدائی داستان لا رہے ہیں، مگر ہم اس سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔ اس لیے ہمارے لیے یہ ایک نئی دریافت جیسی ہوگی، جیسے ہم پہلی بار اسے سن رہے ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس میں ایک تازگی اور جوش ہے۔ ہر ہندوستانی اس کہانی سے جذباتی طور پر جڑا ہوا ہے،ہم، ہمارے والدین، ہمارے بزرگ، سب نے رامائن کو سنا اور جیا ہے۔ لیکن اسے بڑے پردے پر اس پیمانے پر پیش کرنا، اور اسے عالمی سطح پر متعلقہ بنانا، یہی سب سے زیادہ دلچسپ پہلو ہے۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ آج کا عالمی سنیما ایک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ناظرین روایتی کہانیوں سے ہٹ کر نئے بیانیے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے آنے والی بڑی فلموں جیسے ’’ڈُون ۳‘‘ اور ’’دی اوڈیسی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج کے ناظرین کچھ نیا اور مختلف دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مختلف قسم کی کہانیوں کو قبول کرنے کے لیے زیادہ کھلے ذہن کے ہو گئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم انہیں کیا نیا پیش کر سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’راجا شیواجی‘‘ سے رتیش دیشمکھ کا بڑا قدم، یہ فلم مراٹھی سنیما کا مستقبل بدل سکتی ہے
ان کی اس بات پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں خوب ٹرول کیا۔ ایک صارف نے کہا کہ ’’ہم کچھ نیا دیکھنا چاہتے ہیں، آپ ڈون اور اوڈیسی کے ساتھ رامائن کا موازنہ نہ کریں۔‘‘ دوسرے صارف نے لکھا کہ ’’رامائن مختلف ہے اور اوڈیسی اور ڈون ۳؍ الگ۔ آپ ہالی ووڈ کی نقل میں کہیں ہماری ’’دیسی‘‘ کہانی کو خراب نہ کردینا۔‘‘
بیشتر صارفین نے کہا کہ ’’ہندوستانی فلمساز احساس کمتری کا شکار ہیں، اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنی صلاحیتوں کے بجائےدوسروں سے موازنہ میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ اگر آپ نے اچھی فلم بنائی ہے تو عالمی ناظرین موازنہ کے بغیر بھی فلم دیکھیں گے۔‘‘