Inquilab Logo Happiest Places to Work

این آر سی، ووٹر آئی ڈی اور پین کارڈ سمیت ۱۵؍ دستاویز دئیے پھر بھی شہریت’’ ثابت‘‘ نہیں ہوئی

Updated: July 03, 2026, 10:02 AM IST | Agency | New Delhi

گوہاٹی ہائی کورٹ نے فارینرس ٹریبونل کے اس فیصلے کو درست ٹھہرایا ہے، جس میں آسام کے ایک شہری امین الحق کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ امین الحق نے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کیلئے ایک یا دو نہیں بلکہ پورے ۱۵؍ دستاویزات پیش کئےتھے۔

Passport.Photo:INN
پاسپورٹ۔ تصویر:آئی این این
گوہاٹی ہائی کورٹ نے فارینرس ٹریبونل کے اس فیصلے کو درست ٹھہرایا ہے، جس میں آسام کے ایک شہری امین الحق کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ امین الحق نے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کیلئے ایک یا دو نہیں بلکہ پورے ۱۵؍ دستاویزات پیش  کئےتھے، لیکن ہائی کورٹ نے ان تمام کو قانونی طور پر ناقابل قبول یا شہریت ثابت کرنے کیلئے ناکافی قرار دیا۔ گوہاٹی کے مضافاتی علاقے میںکرایے کے مکان میں رہنے والے امین الحق،جو یومیہ مزدوری کرتا ہے ، نے عدالت میں اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے کئی کاغذات پیش  کئے تھے۔ ان میں۱۹۵۱ء کا نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)،۱۹۶۶ء سے لے کر اب تک کی متعدد ووٹر لسٹ،۱۹۷۳ء کے زمین کے کاغذات، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی (ای پی آئی سی) شامل تھے۔ تاہم عدالت کے مطابق عرضی گزار فارینرس ایکٹ۱۹۴۶ء کی دفعہ ۹؍ کے تحت یہ ثابت کرنے میں مکمل طور سے ناکام رہا کہ وہ ایک ہندوستانی شہری ہے۔
 
 
’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ہائی کورٹ کے جسٹس کلیان رائے سُرانا اور جسٹس شمیمہ جہاں کی بنچ نے ان تمام دستاویزات کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ۱۹۵۱ء کا این آر سی ریکارڈ کمپیوٹر سے حاصل کیا گیا تھا لیکن اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ انڈین ایویڈنس ایکٹ کے تحت ضروری سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ اس کے علاوہ۲۰۱۷ء کا اسکول سرٹیفکیٹ اس لئے کالعدم قرار دیا گیا کیونکہ عرضی گزار نے اسے جاری کرنے والے ہیڈ ماسٹر کو گواہ کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کیا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی شہریت کا پختہ ثبوت نہیں ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ عرضی گزار کی پیدائش یکم مئی۱۹۸۸ء کو آسام کے گھوگودوبا میں ہوئی تھی۔ اس کی پرورش بھی وہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہ ہاشدوبا منتقل ہو گیا۔ اس کے خاندان کا نام ووٹر لسٹ میں مسلسل درج ہے۔ عدالت نے عرضی گزار کی جانب سے پیش کی گئی ووٹر لسٹ میں بڑی غلطیوں کی بھی نشاندہی کی ۔ سب سے بڑی گڑبڑی عمر کے ریکارڈ میں تھی۔ ووٹر لسٹ میں خاندان کے ایک ممبر کی عمر۱۹۷۹ء میں ۲۵؍سال دکھائی گئی تھی  جو۱۹۸۹ء کی لسٹ میں صرف ۲۹؍ سال درج تھی۔ اس کے علاوہ عرضی گزار کا خاندان مختلف اوقات میں ۳؍الگ الگ گاؤں دھوباکورا، گھوگودوبا اور ہاشدوبا میں رہا لیکن عدالت نے پایا کہ ان تینوں جگہوں پر رہنے والے خاندان الگ الگ معلوم ہو رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کے آباواجداد کا تعلق آپس میں جڑ نہیں پایا۔عرضی گزار کے والد نے بھی عدالت میں گواہی دی تھی لیکن عدالت نے اسے بھی ادھورا مانا۔ ہائی کورٹ نے بتایا کہ شہریت جیسے سنگین معاملات کو صرف زبانی بیانات کے بھروسے طے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے  لئے پختہ دستاویزی ثبوت ضروری ہیں۔ 
 
 
سماعت کے دوران والد کے بیانات اور ووٹر لسٹ کے ریکارڈ میں بھی فرق پایا گیا۔ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد گوہاٹی ہائی کورٹ نے کہا کہ فارینرس ٹریبونل کے فیصلے میں کوئی قانونی کمی نہیں ہے۔ عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ ۱۵؍ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود یہ شخص ہندوستانی شہری ثابت نہیں ہو سکا۔ امین الحق نے جو دستاویز پیش کئے تھے  ان میں  والد کے۱۹۵۱ء کے این آر سی کی نقل،والد، دادا، دادی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۱۹۵۱ء کے این آر سی کی نقل،دادا اور دادی کے نام پر۱۹۶۶ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،والد، دادا، دادی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۱۹۷۰ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،دادا کے نام پر  ستمبر۱۹۷۳ء میں جاری کردہ زمین کی خریداری کا اصل دستاویز (بیع نامہ)،والدین، دادا، دادی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۱۹۷۹ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،والدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۱۹۸۵ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،والدین، چچا اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۱۹۸۹ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،والدین اور بڑے بھائی کے نام پر۱۹۹۷ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،والدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۲۰۰۵ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،والدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۲۰۱۳ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،والدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر۲۰۱۵ء کی ووٹر لسٹ کی نقل،۲۰۱۷ء کا ہاشدوبا آنچلک ہائی اسکول کا سرٹیفکیٹ،ای پی آئی سی (الیکٹرز فوٹو شناختی کارڈ) اور پین کارڈ شامل تھے۔ اس کے باوجود اس کی شہریت ثابت نہیں ہو سکی ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK