Updated: April 29, 2026, 10:50 AM IST
|
Agency
| Kabul
افغان حکام نے پاکستانی فورسیز پرایک یونیورسٹی اور کئی مکانات کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ اسلام آباد نے تردید کی۔
افغانستان اور پاکستان میں اپریل میں تنازع کو مزید نہ بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔تصویر:آئی این این
کابل ، (ایجنسی ): افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ افغان حکام نے منگل کو بتایا کہ پیر کو پاکستان نے مارٹر گولوں اور میزائلوں سے شمال مشرقی افغانستان میں ایک یونیورسٹی اور کئی مکانات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ۷؍ افراد ہلاک اور کم از کم۸۵؍ زخمی ہو گئے۔ پاکستان نے کسی یونیورسٹی یا رہائشی مکانات کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔افغانستان کی وزارت اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ اس یونیورسٹی پر حملے میں تقریباً ۳۰؍ طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے اور عمارتوں اور کیمپس کو شدید نقصان پہنچا۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ’’پاکستان کے حملے درستی سے اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور اس مرتبہ بھی صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سید جمال الدین افغان یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ یہ دعوے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔‘‘
دریں اثناء پاکستان کی جانب کی گئی افغان فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم ۳؍ شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ’ڈی ڈبلیو‘ کی خبر کے مطابق پاکستان کی سرحدی فورسیز کے ترجمان نے جنوبی وزیرستان میں پیش آنے والے اس واقعے کو ایک ماہ سے زائد عرصہ پہلے ہونے والی فائر بندی کے آغاز کے بعد سے سب سے سنگین جھڑپ قرار دیا ہے۔
افغانستان کی ’طلوع نیوز‘ کے ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسیز نے اتوار کو پاک- افغان سرحد کے نواح میں افغان شہر سپن بولدک کے قریب ’باب دوستی‘ کے پاس ایک بچے کو گولی مار کر ہلاک کر دیاتھا۔ اس کے بعد طالبان فورسیز کی سپن بولدک میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں تازہ لڑائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بار بار بڑھتی رہی ہے۔ اس دوران سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔ فروری میں پاکستان نے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے ساتھ ’کھلی جنگ‘ کی حالت میں ہے جس سے عالمی برادری میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔افغان اور پاکستانی حکام نے اپریل کے اوائل میں چین کے مغربی شہر اُرمچی میں ملاقات کی تھی اور اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنے تنازع کو مزید نہیں بڑھائیں گے اور ’’جامع حل تلاش کریں گے۔‘‘ پیر کو حملے ان مذاکرات کے بعد پہلے بڑے حملے تھےجو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے والی پاک -افغان امن کوششیں کتنی نازک ہیں۔ چین کے علاوہ، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی مختلف اوقات میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں شامل رہے ہیں۔