Updated: July 29, 2026, 7:06 PM IST
| Glasgow
ہندوستان کے لمبی دوڑ کے ایتھلیٹ گلویر سنگھ نے کامن ویلتھ گیمز کے مردوں کے۱۰؍ ہزار میٹر کے مقابلے میں تمغہ جیتنے والے پہلے ہندوستانی بن کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۶ء کے کامن ویلتھ گیمز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
ہندوستان کے لمبی دوڑ کے ایتھلیٹ گلویر سنگھ نے کامن ویلتھ گیمز کے مردوں کے۱۰؍ ہزار میٹر کے مقابلے میں تمغہ جیتنے والے پہلے ہندوستانی بن کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۶ء کے کامن ویلتھ گیمز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
گلویر کے لیے یہ ایک تاریخی کامیابی ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور بڑا سنگ میل جوڑ دیا ہے۔ منگل کو گلویر سنگھ نے اسکاٹس ٹاؤن اسٹیڈیم میں ہوئے مقابلے کو مکمل کرنے میں۷۸ء۴۹؍ کا وقت لیا اور وہ آسٹریلیا کے کائی روبنسن کے بعد دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ آئل آف مین کے ڈیوڈ ملارکی نے۲۸ء۵۰؍ کے وقت کے ساتھ کانسہ کا تمغہ جیتا۔
پچیس لیپ کی اس دوڑ کے زیادہ تر حصے میں مسلسل بارش کے درمیان دوڑتے ہوئے، گلویر شروع سے ہی آگے رہنے والے گروپ کے ساتھ بنے رہے۔ انہوں نے ۳۰۰۰؍ میٹر کا فاصلہ ۲ء۸؍میں پورا کیا، پانچویں نمبر پر کھسکنے کے باوجود ۶۰۰۰؍ میٹر تک مقابلے میں برقرار رہے اور آخری لیپ کا اشارہ دینے والی گھنٹی بجنے سے پہلے تیسرے نمبر پر آ گئے۔ اس کے بعد ہندوستان کے اس بہترین لانگ ڈسٹنس رنر نے شاندار فنشنگ کی اور چاندی کا تمغہ یقینی کرلیا۔
یہ ۱۹۸۶ء کے کامن ویلتھ گیمز کے بعد پہلی بار تھا جب مردوں کی ۱۰۰۰۰؍ میٹر دوڑ میں کوئی بھی افریقی ایتھلیٹ ٹاپ تین میں جگہ نہیں بنا پایا۔ یہ تمغہ پچھلے دو سال میں گلویر کی شاندار ترقی میں ایک اور کامیابی ہے۔ ۲۸؍ سالہ ہندوستانی ایتھلیٹ نے ۲۰۲۳ء کے ایشیائی کھیلوں میں کانسے کا تمغہ جیتا تھا،۲۰۲۴ء سے کئی بار ہندوستانی ۱۰۰۰۰؍ میٹر کا ریکارڈ توڑا ہے۔اس سال کے آغاز میں، انہوں نے اس ایونٹ میں ورلڈ ایتھلیٹکس رینکنگ کے ٹاپ ۱۰؍ میں بھی جگہ بنائی تھی۔
گلویر گلاسگو میں ۵۰۰۰؍ میٹر دوڑ میں بھی حصہ لیں گے۔
یہ تاریخی چاندی کا تمغہ پہلی بار ظاہر کرتا ہے کہ کسی ہندوستانی نے کامن ویلتھ گیمز میں مردوں کے۱۰۰۰۰؍ میٹر مقابلے کے پوڈیم پر جگہ بنائی ہے۔ گلویر کی اس کامیابی نے ہندوستان کے سرفہرست ڈسٹنس رنرز کے طور پر ان کے مقام کو اور مضبوط کیا ہے، ساتھ ہی یہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی ایتھلیٹکس کے مسلسل بلند ہوتے معیار کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسپائیڈر مین بننا میری زندگی کا سب سے بڑا تحفہ ہے:ٹام ہالینڈ
کامن ویلتھ گیمز سے پہلے، آئی آئی ایس کی ایک ویڈیو میں گلویر نے اپنی ذہنی سوچ کے بارے میں بات کی تھی، جس نے ان کے اس سفر میں رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں صرف اپنا بہترین دینے پر توجہ مرکوز کرتا ہوں۔ میں اپنے قومی ریکارڈز کا حساب نہیں رکھتا۔‘‘ ان کی یہ بات سنگ میل پر توجہ دینے کے بجائے مسلسل بہتری لانے کے ان کے نقطہ نظر کو ظاہر کرتی ہے۔
ایتھلیٹکس میں اپنی شروعات کو یاد کرتے ہوئے گلویر نے بتایا’’میں نے فوج میں شامل ہونے کے بعد دوڑنا شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے، میں صرف فوج میں بھرتی ہونے کے لیے دوڑتا تھا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بڑے ہوتے وقت ان کے پاس ایلیٹ ایتھلیٹکس کا کوئی تجربہ یا معلومات نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے کامن ویلتھ گیمز یا ایشیائی کھیلوں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔ فوج میں شامل ہونے کے بعد ہی مجھے ان کے بارے میں پتہ چلا۔‘‘
یہ بھی ٖپڑھئے:کل ملک کی تین ریاستوں میں تین اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخابات، تیاریاں مکمل
اپنی کامیابی کے پیچھے کی قربانیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے گلویر نے ایک ایتھلیٹ کی ذاتی زندگی کی جھلک دی۔ انہوں نے بتایا کہ’’ کبھی کبھی جب میں اپنی ماں سے بات کرتا ہوں، تو مجھے رونا آ جاتا ہے کیونکہ مجھے اپنی ماں اور والد کی بہت یاد آتی ہے۔‘‘ یہ بات بہترین کارکردگی حاصل کرنے کے دوران طویل عرصے تک خاندان سے دور رہنے کے چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے۔ گلویر کی یہ تاریخی کامیابی آئی آئی ایس کے لیے بھی ایک فخر کا لمحات ہے، جو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے اور شاندار مظاہرہ کرنے کے لیے ایتھلیٹوں کو تعاون دینے کے اپنے عزم کو مضبوط کرتی ہے۔ فوج میں شامل ہونے کے بعد مقابلے والے ایتھلیٹکس کو جاننے سے لے کر کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان کے لیے تاریخ رقم کرنے تک کا ان کا یہ سفر، ملک بھر کے ابھرتے ہوئے ایتھلیٹوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔