Updated: October 31, 2026, 3:35 PM IST
|
Azhar Mirza
| Mumbai
صارفین نے لکھا :گنے کا جوس پینے کیلئے تھا اتھنال کیلئے نہیں۔ واشنگ مشین سے کپڑے دھلتے تھےسیاستداں نہیں۔ رشتہ دار اسلاموفوبیا کے شکار نہیں تھے۔
پچھلے دو دنوں سےسوشل میڈیا پر ’’کانگریس کے ٹائم پہ‘‘ نامی موضوع، مقبول سیاسی ٹرینڈ بن گیا ہے۔لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس نیتا راہل گاندھی کی ایک انسٹا گرام پوسٹ نے اس ٹرینڈ کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے ۔ راہل گاندھی نے انسٹا گرام پر لکھا کہ ’’آج یہ ٹرینڈ میں ہے اور ٹرینڈسیٹر تو ہمیشہ سے ہی ہیں ‘‘ان کے شیئر کردہ ۱۳؍ گرافک میں درج ہے کہ’’ کانگریس کے ٹائم پہ،یہ ٹرینڈ نہیں، فلیکس ہے‘‘ ان ساری پوسٹس میں کانگریس کے دور حکومت کی تعریف کی گئی ہےاور مودی سرکار کو چٹکی لی گئی ہے۔ اس میں ایک تصویر پر درج ہے کہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ ،جنتا سرکار منتخب کرتی تھی، سرکار اپنی جنتا نہیں۔‘‘دوسری پر درج ہے کہ ’’پی ایم مائیک کے سامنے آتے تھے، صرف کیمرا کے سامنے نہیں۔‘‘،تیسری پر لکھا تھا: ’’کانگریس کے ٹائم پہ ، جنتا کے من کی بات سنتے تھے۔‘‘،چوتھی پر ’’کانگریس کے ٹائم پہ نیوز پر اپوزیشن بھی دیکھتا تھا۔‘‘،پانچویں پر ’’کانگریس کے ٹائم پہ اچھے دن حقیقت تھے، ناسٹلجیا نہیں۔‘‘ آپ کو بتادیں کہ اس پوسٹ کو ہزاروں صارفین نے لائیک،شیئر اور ری پوسٹ کیا ہے۔
ایکس پر تو’’کانگریس کے ٹائم پہ‘‘ ٹرینڈ نے دھمال ہی مچا دیا ہے۔ صارفین نے ایک سے بڑھ کر ایک تبصرے کئے ہیں۔ جہاں بہت سوں کو مزاح سوجھا تو وہیں بہتیروں نے طنز کے تیر بھی چلائے۔ کچھ نے افسوسناک حقیقت بھی بیان کی ہے۔ غرض یہ کہ سیاست ، صحافت، سماج،مہنگائی، ماحولیات، حالات وغیرہ پر کھل کر کہا گیااور خوب کہا گیا ہے۔
آئیے نظر ڈالتے ہیں۔ ہاجرہ کاگ والا نے لکھاکہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ ایئرپیوریفائر خریدنے کی نوبت نہیں آتی تھی‘‘ گُرلین نامی صارف نے لکھا کہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ فراڈ بابا نہیں ہوتے تھے۔‘‘ لارڈ والڈرمورٹ نے لکھا کہ ’’کانگریس کے ٹائم مجھے ماب لنچنگ ہونے کا خوف نہیں رہتا تھا۔‘‘ اُرجیتا وانی نے کہا ’’کانگریس کے ٹائم پہ میرے باپ سے سیاست پہ جھگڑے نہیں ہوتے تھے۔‘‘ شروتی نے لکھا کہ ’’ کانگریس کے ٹائم پہ کسی کو مسجد کے سامنے جاکر لاؤڈ اسپیکر پر دھارمک گانا لگاکر مجرا کرنے کا شوق نہیں تھا۔‘‘
تبصروں کی بھیڑ سے ہم سب کچھ تو نہیں لائے، لیکن جو کچھ لائے ان میں اپیکوپیو کا یہ تبصرہ پڑھئے: ’’کانگریس کے ٹائم پہ ہیئر کٹ ماں کی پسند کا ہوتا تھا۔‘‘ تھالا نے کہا کہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ نیوز چینلز پر خبریں آتی تھیں۔‘‘مُون نے طنز کیا’’کانگریس کے ٹائم پہ سبھی کے پاس ریڑھ کی ہڈی ہوتی تھی۔‘‘ ڈاکٹر نیمو یادو ۲ء۰؍ نے لکھا کہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ لوگوں کا آئی کیو اتنا کم نہیں ہوتاتھا۔‘‘ آرتھر فلیک نے لکھا : ’’ کانگریس کے ٹائم پہ واشنگ مشین میں کپڑے دھلتے تھے، سیاستداں نہیں‘‘ ہرشعبے میںچھوٹی کمپنیاں،چھوٹی مچھلیوں کے مانند بڑی مچھلیوں کا شکار بن رہی ہیں۔ اسی ضمن میں دِش انٹریسٹیڈ نے اشارہ کیا کہ ’’ کانگریس کے ٹائم پہ ۲؍ سے زیادہ ٹیلی کام آپریٹر ہوا کرتے تھے۔‘‘ ڈیموکریٹ نے پرانے سِم کارڈز کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’’کانگریس کے ٹائم اتنے سارے سِم کارڈز چلتے تھے۔‘‘
رَشمی پُرانک نامی صارف نے انتخابی بدعنوانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ جس کو ووٹ کرتے تھے وہی چن کر آتا تھا۔‘‘ ابھیشیک نامی صارف نے پرانی نسل کی قوت برداشت اور تحمل کو یاد کرتے ہوئے مزاح کے پیرائے میں لکھا کہ ’’ کانگریس کے ٹائم پہ بڈھے گلی میں کرکٹ کھیلنے دیتے تھے۔‘‘ خوشی نے لکھا کہ ’’ کانگریس کے ٹائم پہ دس روپےکی ۱۰؍ پانی پُوری ملتی تھی۔‘‘ وِنمر نے لکھاکہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ فائنانس منسٹر پیاز کھاتا تھا، لوگوں کا پیسہ نہیں۔‘‘ ایندھن میں اتھنال کی بڑھتی آمیزش کے حوالے سے حنا محسن خان نےطنزاً لکھا کہ ’’ کانگریس کے ٹائم پہ گنے کا جوس بس پینے کیلئے ہوتا تھا۔‘‘ پَنسٹر ایکس نے گودی پترکاریتا کے حوالے سے لکھا کہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ پترکار کانگریس سے سوال کرتے تھے۔ بی جے پی کے ٹائم پہ بھی پترکار کانگریس سے ہی سوال کرتے ہیں۔‘‘ انکت کانٹے نے سماج میں بڑھتی خلیج اور غلط فہمیوں کے متعلق لکھا کہ ’’کانگریس کے ٹائم پہ رشتے دار اسلاموفوبیا کے شکار نہیں تھے۔‘‘ عرشیہ نے لکھا کہ ’’’ کانگریس کے ٹائم پہ دُھرندھر کی جگہ رنگ دے بسنتی جیسی فلمیں آیا کرتی تھیں۔‘‘چیتنا گوتم نے میگا اسٹار امیتابھ بچن کی ایکس پر ٹویٹ نمبروں کےتئیں مضحکہ خیز عادت کا مذاق بناتے ہوئے لکھا کہ ’’ کانگریس کے ٹائم پہ بچن صاحب یہ نہیں کرتے تھے۔‘‘ اُردووالا نے لکھا کہ ’’ کانگریس کے ٹائم پہ سیلبریٹیز حالات حاضرہ پر بولتے تھے۔‘‘جاتے جاتے ہم یہی کہیں گے کہ ٹرینڈ جینوئن ہوتو پھر کوئی الگورتھم اور مداخلت اسے روک نہیں پاتے۔ ان تبصرے بازوں میں بیشتر جین زی ہیں، جو دنیا بھر میں سسٹم کو ہلارہے ہیں۔