آئی او سی مقررہ وقت پر اولمپک کرانے کیلئے پُرعزم

Updated: March 19, 2020, 11:08 AM IST | Agency | Tokyo

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) ٹوکیو اولمپک کھیلوں کو۲۴؍ جولائی سے ۹؍ اگست تک مقررہ وقت پر کرنے کیلئے پُر عزم ہے لیکن عالمی وبا کی صورت اختیار کرنے والے کورونا وائرس کے خطرے کے درمیان اولمپکس کرانے کے منصوبے پر اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Tokyo Olympics 2020 - Pic : PTI
اولمپک مشعل لانے والے طیارے کو یونان روانہ کرتے ہوئےعملے کے اراکین ۔ تصویر : پی ٹی آئی

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) ٹوکیو اولمپک کھیلوں کو۲۴؍ جولائی سے ۹؍ اگست تک مقررہ وقت پر کرنے کیلئے پُر عزم ہے لیکن عالمی  وبا کی صورت اختیار کرنے  والے کورونا وائرس  کے خطرے کے درمیان اولمپکس کرانے کے منصوبے پر اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کورونا وائرس   کے سبب ۷۵۰۰؍سے زیادہ افراد کی موت ہو چکی ہے اور۲؍ لاکھ سے زیادہ اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ یورپ اب اس خطرناک وائرس کا مرکز بن چکا ہے۔یوروکپ فٹ بال ۲۰۲۰ء ، کوپا امریکہ اور فر ینچ اوپن ٹینس گرینڈ سلیم جیسے بڑے ٹورنامنٹ کورونا کے سبب  ملتوی کئے جا چکے ہیں۔لیکن آئی او سی نے ٹوکیو اولمپکس منسوخ کرنے یا ملتوی کرنے کے امکان کے بارے میں عوامی طور سے ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔
 آئی او سی نے ٹوکیو اولمپکس کے انعقاد کے سلسلے میں  بدھ کو  نیشنل  اولمپک کمیٹیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ آئی او سی نے منگل کو بین الاقوامی اسپورٹس  فیڈریشنوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف کئے گئے اقدامات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
 اس وائرس نے اولمپکس كواليفكیشن ٹورنامنٹوں کو اپنی زد میں لے لیا  ہے جس سے کوالیفائر یا تو منسوخ کئے گئے ہیں یا پھر ملتوی کردیئے گئےہیں۔کھلاڑیوں کی ٹریننگ ، سفر  اور مقابلوں میں پریشانیاںدر پیش ہیں۔واضح رہےکہ جاپان کے شہر ٹوکیو کو۱۱؍ ہزار کے قریب کھلاڑیوں کی میزبانی کرنی ہے اور۵۰؍ فیصد سے زیادہ کھلاڑی ان کھیلوں کے لئے کوالیفائی کر چکے ہیں۔ باقی کھلاڑیوں کو كواليفكیشن یا درجہ بندی کی بنیاد پر اولمپکس میں داخلہ ملنا ہے۔
 آئی او سی کی رکن ہیلی وكین هیسر نے کھیل  جاری رکھنے کے فیصلے کو بے حس اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ وكین هیسر نے آئی ايس ہاکی میں ۵؍ سرمائی کھیلوں میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ کافی بڑا بحران  ہے۔ اگر ہم کھیلوں کو شیڈول کے مطابق منعقد کرتے ہیں تو ہم اس خطرناک وائرس کے خطرے کو پوری طرح  نظر انداز کر رہے ہیں۔ کھلاڑی ٹریننگ نہیں کر پا رہے ہیں، سفر کرنا مشکل ہے اور بازاروں اور اسپانسرز کی حالت خراب ہے۔ انسانی زندگی پر منڈلا رہے خطرے کے پیش نظر  اولمپکس کرانا صحیح فیصلہ نہیں ہو گا۔‘‘
 اولمپک میںحصہ لینے والے کئی موجودہ اورسابق کھلاڑیوں کا بھی کہنا ہےکہ آئی او سی کا فیصلہ کھلاڑیوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ جب وائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے پورے ملک کو بند کر دیا گیا ہو تو ایسے میں کھلاڑی  ٹریننگ کس طرح کر سکتےہیں۔کھیل ملتوی نہیں کئے جا رہے ہیں، منسوخ نہیں کئے جا رہے ہیں، تو کیا آئی او سی ہمیں خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے۔‘‘
 اگرچہ آئی او سی کو پنام اسپورٹس کی حمایت مل رہی ہے جو امریکہ میں۴۱؍ قومی اولمپک کمیٹیوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ہے۔ پنام اسپورٹس کے صدر نیوین الك نے کہا کہ وہ اس وبا کے سلسلے میں  آئی او سی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
 آئی او سی کا اس تعلق سے کہنا ہےکہ ’’یہ عجیب و غریب صورتحال ہے اور اس کا   حل بھی ایسے ہی نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہم  وہ حل تلاش کرنا چاہتے ہیں  جس سے کھلاڑیوں پر کم سے کم اثر پڑے اور کھیل کی سالمیت اور کھلاڑیوں کی صحت برقرار رہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK