ڈیڈ سی لینڈ میراتھن کے ساتویں ایڈیشن میں ۸؍ ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا، جن میں برطانیہ کے ۳۲؍ رنرز بھی شامل تھے۔ یہ منفرد ریس زمین کے سب سے نچلے مقام بحیرۂ مردار کے کنارے منعقد ہوئی اور عالمی برداشت کے شوقین افراد کے لیے ایک خاص کشش بن گئی۔
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 8:04 PM IST | Jerusalem
ڈیڈ سی لینڈ میراتھن کے ساتویں ایڈیشن میں ۸؍ ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا، جن میں برطانیہ کے ۳۲؍ رنرز بھی شامل تھے۔ یہ منفرد ریس زمین کے سب سے نچلے مقام بحیرۂ مردار کے کنارے منعقد ہوئی اور عالمی برداشت کے شوقین افراد کے لیے ایک خاص کشش بن گئی۔
عالمی رننگ کیلنڈر میں اپنی انفرادیت کے باعث نمایاں مقام رکھنے والی Dead Sea Land Marathon کے ساتویں ایڈیشن میں اس سال ۸؍ ہزار سے زائد شرکاء نے حصہ لیا۔ زمین کے سب سے نچلے مقام ’’ڈیڈ سی‘‘ (بحیرۂ مردار) کے قریب منعقد ہونے والی اس دوڑ نے ایک بار پھر بین الاقوامی کھلاڑیوں اور شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس ایونٹ میں برطانیہ کے ۳۲؍ رنرز بھی شامل تھے، جو ایک ناقابلِ فراموش تجربے کے لیے خطے میں پہنچے۔ میراتھن ریس کے دن سے دو ماہ قبل ہی اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ گئی تھی، جس سے اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس ریس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا غیر معمولی اور چیلنجنگ راستہ ہے۔ صرف ایک دن کے لیے شرکاء کو ایسے علاقوں تک رسائی دی جاتی ہے جو عام طور پر عوام کے لیے بند رہتے ہیں۔ ان میں ۶؍ سے ۸؍ میٹر چوڑے بجری کے تنگ پشتے شامل ہیں، جو براہِ راست بحیرۂ مردار کے پانیوں کے بیچ سے گزرتے ہیں۔ یہ منظر نامہ رنرز کو قدرتی حسن اور جسمانی چیلنج کا منفرد امتزاج فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپینش لیگ لا لیگا :گیرونا نے بارسلونا کو شکست دے کر لا لیگا کی ٹاپ پوزیشن چھین لی
ڈیڈ سی لینڈ میراتھن مختلف سطح کے رنرز کے لیے چھ مختلف کیٹیگریز پیش کرتی ہے۔ ابتدائی سطح کے ۵؍ کلومیٹر رن سے لے کر ۵۰؍ کلومیٹر الٹرا میراتھن تک، ہر قسم کے ایتھلیٹس کے لیے مواقع موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہاف میراتھن، مکمل میراتھن اور ۱۵؍ کلومیٹر کے مشہور ’’تمر کے ارد گرد‘‘ راستے کا انتخاب بھی کیا جا سکتا ہے۔ دوڑ کے بعد کئی شرکاء نے بحیرۂ مردار کے قدرتی علاج سے بھی فائدہ اٹھایا۔ یہاں کی معدنیات سے بھرپور مٹی کے غسل اور نمکین پانی صحت اور جلد کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جس سے اسپورٹس ایونٹ کے ساتھ ساتھ سیاحتی پہلو بھی مضبوط ہوتا ہے۔
ڈیڈ سی لینڈ میراتھن اب صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ بن چکی ہے، جہاں قدرتی حسن، جسمانی برداشت اور عالمی ہم آہنگی ایک ساتھ نظر آتی ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایونٹ مستقبل میں بھی عالمی رننگ کیلنڈر کا اہم حصہ بنا رہے گا۔