Updated: June 19, 2026, 10:57 AM IST
| New Delhi
مرکز نےعدالت کو بتایاکہ ٹیلی گرام کے ذریعے غیر قانونی مواد بڑے پیمانے پرپھیلائے جا سکتے ہیں،عدم تعاون کا بھی الزام ،ٹیلی گرام نے ان دعوؤں کی تردید کی ۔
ٹیلی گرام۔ تصویر:آئی این این
دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیاجس میں حکومت کے ذریعے ٹیلیگرام میسیجنگ پلیٹ فارم پر عارضی پابندی لگائے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ حکومت نے ۲۱؍ جون کو ہونے و الے نیٹ امتحان کے تناظر میں ٹیلی گرام پر یہ عارضی پابندی عائد کی ہے۔حکومت کے ا س اقدام کے دودن بعدعدالت نےپابندی کے خلاف ٹیلی گرام کی داخل کردہ عرضی پرسماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔عدالت میں مرکز نے بھی جواب داخل کیا ہےجس میں دوبارہ امتحان کے انعقاد سےمتعلق ٹیلی گرام کے حوالے سےخدشات کااظہار کیاگیا ہے اوردعویٰ کیا کہ ٹیلی گرا م کے ذریعے امتحان اور نقل سے متعلق غیر قانونی مواد ومشمولات بڑے پیمانے پر پھیلا ئے جا سکتے ہیں۔
مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں یہ موقف اختیار کیا کہ میسیجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران حکومت کی جانب سے بار بار اٹھائے گئے خدشات اور انتباہات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور متعدد اہم معاملات میں مطلوبہ تعاون فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہی وجہ تھی کہ حکومت نے نیٹ ۲۰۲۶ء کے دوبارہ امتحان سے قبل ٹیلی گرام کی خدمات کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق حکومت کی ایک بڑی تشویش ان چینلوں سے متعلق تھی جن پر امتحانی مواد یا دیگر حساس معلومات کے تبادلے کے الزامات تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان چینلز سے متعلق معلومات، ان کے ذرائع اور متعلقہ ڈیٹا کے انکشاف کے معاملے میں ٹیلی گرام نے مکمل تعاون نہیں کیا۔ایس جی تشار مہتا نے یہاں تک الزام لگایا کہ ٹیلی گرام مجرموں اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے یہ سب سے آسان پلیٹ فارم ہے۔ٹیلی گرام کے نمائندہ نے ان الزامات سے ا نکار کیا اور بتایا کہ مرکز کے ساتھ متعددمیٹنگوں میںتفصیلی بات چیت ہوئی ہےاورجن چینلز کی نشاندہی کی گئی ،ان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔