Updated: July 11, 2026, 11:41 AM IST
|
Mohammed Habeeb
| Mumbai
دھمال سیریز کو آگے بڑھاتے ہوئے اس میں بھی وہی عناصر شامل کئے گئے ہیں جو اس سے قبل کی اس سیریز کی فلموںمیں شامل کئے گئے تھے۔
دھمال ۴۔ تصویر:آئی این این
ان دنوں بالی ووڈ کی کشتی زیادہ تر سیکوئلز اور فلمی فرنچائزز کے سہارے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔اگر صرف اجے دیوگن کی بات کی جائے تو وہ ’گول مال‘،’سنگھم‘،’دے دے پیار دے‘، ’درشیم‘ اور’ریڈ‘ جیسی فرنچائزز کے ایک کے بعد ایک سیکوئل پیش کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ۲۰۰۷ءکی کامیاب کامیڈی فلم ’دھمال‘ بھی ہے، جس کا تیسرا حصہ ’ٹوٹل دھمال‘ کافی پہلے ریلیز ہو چکا تھا۔ اب جمعہ ۱۰؍جولائی ۲۰۲۶ءکواس سیریز کی نئی فلم’دھمال۴‘ سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔صرف دو ہفتے قبل ریلیز ہونےوالی اکشے کمار کی ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ کی طرح یہ فلم بھی درجن بھر اداکاروں سے سجی ایک ایسی بے سروپااورہنگامہ خیز کامیڈی ہے، جو ناظرین کو مسلسل ہنسانے کی کوشش توکرتی ہے، لیکن اس میں کامیابی صرف چند مواقع پر ہی حاصل کر پاتی ہے۔
فلم کی کہانی
’دھمال۴‘کی کہانی بھی اس فرنچائز کی گزشتہ فلموں کی طرح لالچ، خزانے کی تلاش اور مضحکہ خیز حالات کے گرد گھومتی ہے۔ اس بار بھی مختلف گروہ ایک پوشیدہ خزانے کی تلاش میں نکلتے ہیں اور اس دوران انہیں شیر، وہیل مچھلی، مگرمچھ، سانپ، گہری کھائیاں، طوفان اور طرح طرح کی خطرناک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کہانی میں ۳؍ الگ الگ ٹولیاں ہیں، جن کے گرد پوری فلم گھومتی ہے۔پہلے گروہ میں ۲؍بچوں کی ماں عالیہ (ایشا گپتا) ہے، جس سے شادی کرنے کے خواب دیکھنے والا گڈو (اجے دیوگن) اور اس کا ساتھی جانی (سنجے مشرا) شامل ہیں۔دوسرے گروہ میں آدتیہ (ارشد وارثی)، مانو (جاویدجعفری) اور آدتیہ کی اہلیہ (سنجیدہ شیخ) شامل ہیں،جو اپنی مزاحیہ نوک جھونک سے کئی دلچسپ مواقع پیدا کرتے ہیں۔تیسرے گروہ کی قیادت قسمت کا مارا لَلّن (رتیش دیشمکھ) کرتا ہے۔وہ ابتدا میںکسی امیر لڑکی سے شادی کر کے اپنی قسمت بدلنا چاہتا ہے، لیکن اس کے حصے میں ایک ڈرائیور کی بھاری بھرکم بیٹی پارو (انجلی آنند) آتی ہے، جس کے بعد اس کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ان کرداروں کے علاوہ ایک کم عقل سمندری قزاق ادھورا (روی کشن) بھی اسی خزانے کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ لالچ، غلط فہمیوں اور ایک دوسرے کو مات دینے کی کوششوں کے درمیان یہ تمام کردار کن حالات سے گزرتے ہیں اور انجام تک کیسے پہنچتے ہیں، یہ جاننے کے لیے فلم دیکھنی ہوگی۔
ہدایت کاری
ٹریلر ہی سے واضح تھا کہ ہدایت کاراندر کمار کی یہ فلم ایسی کامیڈی ہے جسے منطق اورحقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر ہی دیکھاجا سکتا ہے۔ تقریباً ہر منظر میں مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن اس کوشش میں کئی مرتبہ واقعات اس قدر غیر منطقی اور بے ربط ہو جاتے ہیں کہ ہنسی کے بجائے الجھن محسوس ہونے لگتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اندر کمار اب بھی ۹۰ءکی دہائی کے اسی مزاحیہ انداز میں اٹکے ہوئےہیں، جہاں ہکلانے، جسمانی وزن یا ظاہری شکل و صورت پر لطیفے سنانا کامیڈی سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فلم کے بیشتر لطیفے پرانے اور گھسے پٹے محسوس ہوتے ہیں اور ناظرین پر زیادہ اثر نہیں چھوڑتے۔
اداکاری
فلم کے بصری اثرات(وی ایف ایکس)بھی خاصے کمزور ہیں،جس کی وجہ سے کئی مناظر مصنوعی محسوس ہوتے ہیں۔ البتہ چند کامیڈی ٹریک واقعی دلچسپ ہیں۔ خاص طور پر ارشد وارثی، جاوید جعفری اور سنجیدہ شیخ کی تینوں پر مشتمل کہانی جب بھی پردۂ سیمیں پر آتی ہے، ناظرین کو ہنسنے کا موقع ضرور ملتا ہے۔
سنجے مشرا اور ان کے ساتھی کے درمیان مزاحیہ لمحات بھی فلم کی نمایاںخوبیوں میں شامل ہیں۔ دوسری جانب رتیش دیشمکھ کا دیسی اندازبعض مواقع پر ضرورت سے زیادہ بلند آہنگ محسوس ہوتا ہے۔ اداکاری کے اعتبار سے تقریباً تمام فنکاروں نے اپنی اپنی ذمہ داری مناسب انداز میں نبھائی ہے، لیکن مضبوط اسکرپٹ کی کمی ان کی محنت کو پوری طرح نمایاں نہیں ہونے دیتی۔
کیوں دیکھیں؟
مجموعی طور پر’دھمال۴‘ ایک ایسی فلم ہے جس سے لطف اندوز ہونےکے لیے آپ کومنطق کو ایک طرف رکھنا ضروری ہے۔ اگر آپ صرف ہلکی پھلکی، بے فکر اور بے مقصد کامیڈی دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ فلم آپ کو کچھ حد تک محظوظ کر سکتی ہے، لیکن اگر آپ معیاری مزاح یا مضبوط کہانی کی توقع لے کر سینما ہال جائیں گے توآپ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔