آدتیہ دھر کی فلم ’’دُھرندھر۲‘‘ کے سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے میں مہاراشٹر سائبر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کر لی ہے۔ فلم کو غیر قانونی طور پر ٹیلیگرام پر شیئر کرنے اور پیسے لے کر فروخت کرنے کا الزام ہے۔
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 3:03 PM IST | Mumbai
آدتیہ دھر کی فلم ’’دُھرندھر۲‘‘ کے سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے میں مہاراشٹر سائبر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کر لی ہے۔ فلم کو غیر قانونی طور پر ٹیلیگرام پر شیئر کرنے اور پیسے لے کر فروخت کرنے کا الزام ہے۔
آدتیہ دھر کی فلم ’’دُھرندھر۲‘‘ کے سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے میں مہاراشٹر سائبر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کر لی ہے۔ فلم کو غیر قانونی طور پر ٹیلیگرام پر شیئر کرنے اور پیسے لے کر فروخت کرنے کا الزام ہے۔
اس معاملے میں پولیس نے کاپی رائٹ ایکٹ کی دفعہ ۵۱؍ کے تحت کیس درج کیا ہے۔ سائبر پولیس کے مطابق کچھ لوگوں نے ٹیلیگرام پر ایک گروپ بنایا ہوا تھا، جس میں فلم ’’دُھرندھر۲‘‘ کی کاپی مانگنے پر فراہم کی جاتی تھی۔ گروپ ایڈمن دلچسپی رکھنے والے افراد سے ۵۰؍ روپے تک وصول کر کے فلم کا لنک یا فائل بھیج رہے تھے۔ یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔
یہ بھی پڑھئے:جے رام رمیش نے مودی حکومت پر تنقید کی، مغربی ایشیا میں جنگ بندی عالمی توجہ کا مرکز
مہاراشٹر سائبر سیل نے اب ان ٹیلیگرام گروپس کو چلانے والوں کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فلم پائریسی نہ صرف فلم انڈسٹری کے لیے بڑا مالی نقصان ہے بلکہ اس سے پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور فنکاروں کو بھی کافی نقصان ہوتا ہے۔ پائریسی کے باعث فلم کی باکس آفس آمدنی پر براہِ راست اثر پڑتا ہے اور محنت سے بنائی گئی فلم کو اس کی اصل قدر نہیں مل پاتی۔ ’’دُھرندھر۲‘‘ ایک بڑے بجٹ کی فلم ہے جس کا ناظرین کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کو راحت، راجستھان ہائی کورٹ نے ضمانتی وارنٹ پر روک لگا دی
آدتیہ دھر کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم کو غیر قانونی طور پر شیئر کیے جانے پر پروڈکشن ٹیم نے مہاراشٹر سائبر پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ سائبر پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پائریسی کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلایا ہے۔ پولیس ٹیم ٹیلیگرام گروپ ایڈمنز اور فلم لیک کرنے والے دیگر افراد کے ڈجیٹل فٹ پرنٹس کا سراغ لگا رہی ہے۔