وزیر اعلیٰ فرنویس کی وضاحت ،کہا کہ’’ ڈیجیٹل اریسٹ کا فون آنے پر گھبرائیں نہیں بلکہ سائبر سیل یا پولیس سے رابطہ کریں‘‘
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 11:28 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
وزیر اعلیٰ فرنویس کی وضاحت ،کہا کہ’’ ڈیجیٹل اریسٹ کا فون آنے پر گھبرائیں نہیں بلکہ سائبر سیل یا پولیس سے رابطہ کریں‘‘
ودھان بھون میں جاری اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں منگل کو ’’ ڈیجیٹل اریسٹ یا گرفتاری ‘‘کا معاملہ اٹھایا گیا۔رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی اور دیگر نے وقفہ ٔ سوالات میں ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شہریوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے لاکھوں کروڑ وں روپے ٹھگنے کے معاملات کو پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت اس سلسلے کو روکنے کیلئے فوری اقدام کرے۔ اراکین اسمبلی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فرنویس نے بالکل واضح طور پر کہا کہ ڈیجیٹل اریسٹ کچھ نہیں ہوتا یہ محض ایک فریب ہے۔وزیر اعلیٰ نے عوام خصوصاً سبکدوش افرادسے اپیل کی ہے کہ وہ ایسا کوئی فون آنے پر نہ گھبرائیں اور نہ اس فریب میں آئیں۔ انہوںنے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کا ویڈیو کال آنے پر اس کی شکایت فوری طور پر سائبر کرائم سیل میں کریں یا قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایاکہ فوری اور ’گولڈن اوور‘ میں شکایت کرنے پر ملزمین کے خلاف تیزی سے کارروائی کی جاسکے گی اوراگر کوئی رقم ہتھیالی گئی ہے تو وہ واپس مل سکے گی۔
اس سے قبل رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے ایوان میں وقفہ ٔ سوالات کے دوران یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ آج ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ کے نام پر موبائل فون کے ذریعے لوگوں سے بڑے پیمانے پرلوٹ ہو رہی ہے ۔ اگرچہ قانون میں ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن اس سے لاعلمی کے سبب سائبر کریمنل معمر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ شاطر افراد ویڈیو کال کر کے کبھی پارسل یا کوریئر میں غیر قانونی سامان ملنے کا الزام لگاتے ہیں اور کبھی متاثرہ افرادکے نام منشیات کی بکنگ دکھا کر ڈرایا جاتا ہے۔ مجرم خود کو سی بی آئی یا نارکوٹکس آفیسر ظاہر کرتے ہیں، لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں اور جھوٹے مقدمات سے بچانے کے بہانے آن لائن بڑی بڑی رقم ہتھیالیتے ہیں۔ ابو عاصم اعظمی نے ایک واقعہ کا بھی ذکر کیا کہ کیسے ممبئی میں ۶۸؍ سالہ خاتون سے تقریباً ۳ ؍ کروڑ ۸؍ لاکھ روپے لوٹ لئے گئے ۔ اسی طرح کوپر گاؤں(ضلع احمد نگر) میں ایک سبکدوش افسر سے ۷۸؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار روپے ٹھگ لئے گئے۔ابو عاصم اعظمی کے مطابق اس طرح کی فریب دہی کا شکار ہونے والے بہت سے افراد گرفتاری سے بچنے کیلئے اپنی زندگی بھرکی بچت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ نے خودکشی بھی کر لی ہے۔انہوں نے ایوان میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سائبر کرائم روکنے کیلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرے، مواصلات کے تمام ذرائع سے عوامی بیداری پیدا کرے
ابو عام اعظمی نے یہ مطالبہ بھی کیاکہ ہیلپ لائنز کو قابل رسائی اور موثر بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متاثرین سے لی گئی رقوم فوری طور پر واپس مل جائیں۔ اسی کے ساتھ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے ۔ دیگر اراکین اسمبلی نے بھی سائبر فراڈ کے متعدد طریقے بتائیں جن کے ذریعہ شہریوں کو لوٹا گیا ہے۔ ان میں رقم دگنی کرنےکا جھانسہ بھی شامل تھا۔اس سلسلےمیں وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ دیویندر فرنویس نے از خود جواب دیا۔ انہوں نے ان سوالوں پر خود کھڑے ہوکر وضاحت دی اور تصدیق کی کہ ویرا دیسائی روڈ ( اندھیری، ممبئی )کی ایک خاتون سے آدھار کارڈ کے ذریعے غیر قانونی لین دین ہونے اور منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر ۳؍کروڑ ۷۱؍ لاکھ روپے لوٹ لئے گئے ۔اس معاملے میں ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے اور ۲۵؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار ۱۵۰؍ روپے واپس لئے گئے ہیں، اسی طرح احمد نگرمیں ایک سبکدوش آفیسر کو ڈیجیٹل اریسٹ سے ڈرا کر ۷۸؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار ۴۰۰؍ روپے لوٹے گئے لیکن فوری طور پر متاثرہ کی شکایت کے بعد بینک اکائونٹ میں ۷۸؍ لاکھ روپے ہولڈ کر لئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے تمام اراکین کو مخاطب کرتے ہوئےکہاکہ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘کچھ نہیں ہوتا ہے۔ قانون میں کسی کو بھی ڈیجیٹل طور پر گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے اگر آپ کو کسی نے ڈیجیٹل اریسٹ کا فون یا ویڈیو کال کیا تو پہلے ہی یہ سمجھ جانا چاہئے کہ یہ دھوکہ باز کا فون ہے۔کوئی بھی کسی کو ڈیجیٹل اریسٹ نہیں کر سکتا۔‘‘
اس دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بتایاکہ ’’ ڈیجیٹل اریسٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شہری کو ایک ویڈیو کال آتا ہے اور فون کرنے والا خود کو سی بی آئی کا افسریا پولیس آفیسر اور کبھی کسٹم کا آفیسر بتاتا ہے۔ اس کے بعد یہ کہتا ہےکہ آپ نے جو پارسل منگوایا تھا اس میں ڈرگس ملے ہیں اور اسی لئے آپ کو ڈیجیٹل اریسٹ کیاجاتا ہے۔ اس لئے آپ کو فون کے سامنے سے ہٹنا نہیں ہے اور نہ فون منقطع کرنا ہے ۔اس طرح وہ شاطر شخص عام بزرگ شہری کو ڈرا دھمکا کر ۲۰۔۴۰؍ لاکھ روپے آن لائن دینے کا مطالبہ کرتا ہے ۔عام شہری اس سے گھبراکر آن لائن رقم دینا شروع کر دیتا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ایک سبکدوش آئی اے ایس افسر اور اسی طرح فوج میں ایک اعلیٰ عہدہ سے سبکدوش ہونے والا افسر بھی اس طرح کے فریب کا شکار ہو چکا ہے ۔‘‘فریب دہی کرنے والے شاطر افراد کے طریقہ کار سے متعلق وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ ایک بینک کھاتے میں رقم آنے کے بعد اسے کئی کھاتوں میں تیزی سے منتقل کرنا شروع کر دیا جاتا ہےاور اس طرح ٹھگی گئی رقم غیر ملکی بینکوں کے کھاتے میں پہنچ جاتی ہے۔ کئی معاملات میں تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ پورا آپریشن بیرون ملک میں کیا گیا تھا ۔ کلیدی ملزم عموماً ایسے ملک میں ہوتا ہے جن سے ہمارا معاہدہ نہیں ہے۔یہاں کام کرنے والے محض آپریٹر ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’ اگر کسی کو ڈیجیٹل اریسٹ کرنے کا فون یا ویڈیو کال موصول ہوتا ہے تو وہ اس سے گھبرائے نہیں بلکہ فوراً سائبر سیل کی ہیلپ لائن ۱۹۳۰؍ پر رابطہ قائم کرے۔ سائبر فراڈ کے معاملات پر قابو پانے کیلئے جدید اور اطمینان بخش پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے۔ اگر کسی نے شاطر شخص کے جھانسے میں آکر کچھ رقم دے دی اور وہ فوری طور پر سائبر سیل میں شکایت کرے تو ’گولڈن اوور‘ میں اپنے پاس ایسا انتظام ہے کہ اس کے رقم واپس لی جاسکتی ہے ۔ حکومت نے این بی ایف سی سمیت سبھی بینکوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا ہے، لہٰذا الگ الگ کھاتو ں میں جو رقم منتقل کی جاتی ہے اسے روکا جاسکتاہے۔
ابو عاصم اعظی کے مطابق اس طرح کی فریب دہی سے بچنے کیلئے شہریوں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور مرکزی اور ریاستی حکومت ٹی وی چینلوں پر اشتہارات کےذریعے عوام میںبیداری پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ اس کے باوجود روز کوئی نہ کوئی ڈیجیٹل اریسٹ کے ذریعے ٹھگا جارہا ہے۔اس بحث میں وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے بھی تفصیلات پیش کیں۔