Updated: January 30, 2026, 5:19 PM IST
| New Delhi
بغیر کسی شرط کے نقد رقم کی منتقلی، جسے عام طور پر انتخابی مفت مراعات کہا جاتا ہے، تیزی سے کئی ہندوستانی ریاستوں کی فلاحی پالیسیوں کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ یہ اسکیمیں خاص طور پر خواتین کو فوری آمدنی کا سہارا فراہم کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ سرکاری مالیات اور طویل مدتی معاشی ترقی سے متعلق سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کرتی ہیں۔
معاشی جائزہ۔ تصویر:آئی این این
بغیر کسی شرط کے نقد رقم کی منتقلی، جسے عام طور پر انتخابی مفت مراعات کہا جاتا ہے، تیزی سے کئی ہندوستانی ریاستوں کی فلاحی پالیسیوں کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ یہ اسکیمیں خاص طور پر خواتین کو فوری آمدنی کا سہارا فراہم کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ سرکاری مالیات اور طویل مدتی معاشی ترقی سے متعلق سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کرتی ہیں۔ اقتصادی سروے۲۶۔۲۰۲۵ء تسلیم کرتا ہے کہ نقد منتقلی قلیل مدت میں مددگار ثابت ہوتی ہے، مگر خبردار کرتا ہے کہ اگر یہ اسکیمیں حد سے زیادہ بڑی، طویل المدت یا ناقص انداز میں تیار کی جائیں تو یہ ریاستی مالیات پر دباؤ ڈال سکتی ہیں اور ترقی کو سہارا دینے والے منصوبوں پر خرچ کم ہو سکتا ہے۔
سروے کے مطابق مالی سال۲۰۲۶ء میں نقد منتقلی کی اسکیموں پر خرچ تقریباً ۷ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ محدود ریاستی بجٹ اور بڑھتے ہوئے قرض کے پس منظر میں، سروے کا کہنا ہے کہ ایسی اسکیموں کی محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں معاشی ترقی متاثر نہ ہو۔
اہم ریاستی اسکیمیں اور بھاری اخراجات
ہندوستانی ریاستیں براہِ راست نقد امدادی اسکیموں پر بڑی رقوم خرچ کر رہی ہیں، جن کا ہدف بنیادی طور پر خواتین اور خاندان ہیں۔ مہایوتی حکومت (بی جے پی اور شیو سینا) کے تحت، مہاراشٹر نے مکھیہ منتری ماجھی لاڈکی بہن یوجنا کے لیے۳۶؍ہزارکروڑ روپے مختص کیے ہیں، جس کے تحت ریاست بھر کی خواتین کو مالی امداد دی جاتی ہے۔
کرناٹک میں وزیر اعلیٰ سدارمیا کی قیادت میں کانگریس حکومت نے گروہا لکشمی اسکیم کے لیے ۲۸۶۰۸؍ کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اہل خواتین کو گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر ماہ۲؍ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت نے لاڈلی بہن یوجنا کے لیے۲۰۴۵۰؍ کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ماہانہ امداد بڑھا کر ۱۵۰۰؍ روپے کر دی گئی ہے، جس سے پروگرام کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ میں وزیر اعلیٰ ریونتھ ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت نے سب سے زیادہ رقم مختص کی ہے، جہاں ’سِکس گارنٹیز‘ پروگرام کیلئے ۵۶۰۸۴؍ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اس میں مہالکشمی اور ریتھو بھروسہ جیسی بڑی اسکیمیں شامل ہیں، جو خواتین اور کسانوں کو مالی مدد فراہم کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’گاندھی ٹاکس‘‘ کی ریلیز کے تعلق سے ادیتی راؤ حیدری پرجوش ہیں
ریاستی سطح کی اسکیموں میں تیز اضافہ
سروے کے مطابق، مالی سال ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان بغیر شرط نقد منتقلی کی اسکیمیں چلانے والی ریاستوں کی تعداد میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ توسیع اس حقیقت کے باوجود ہوئی ہے کہ تقریباً آدھی ریاستیں آمدنی کے خسارے کا شکار ہیں۔ سروے میں شامل مطالعات کے مطابق، یہ اسکیمیں ریاستوں کو ان کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی ) کے۱۹ء۰؍ فیصد سے ۲۵ء۱؍ فیصد تک کی لاگت پڑتی ہیں اور بعض صورتوں میں یہ ریاستی اخراجات کے ۸؍فیصد سے بھی زیادہ بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:زیوریو کو شکست دے کر الکاراز پہلی بار آسٹریلین اوپن کے فائنل میں پہنچے
مستفید ہونے والوں کے لیے ان اسکیموں کا اثر نمایاں ہے۔ نقد منتقلی خواتین غیر مستقل مزدوروں کی ماہانہ آمدنی کا ۱۱؍ سے ۲۴؍ فیصد تک بنتی ہے جبکہ بعض ریاستوں میں خود روزگار خواتین کے لیے یہ شرح ۸۷؍ فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادائیگیاں کم از کم نصف آبادی کے لیے ماہانہ کھپت کے اخراجات کا ۴۰؍ سے۵۰؍ فیصد حصہ بنتی ہیں۔