Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند امریکہ تجارتی معاہدہ کی جلد تکمیل کی کوشش پھر تیز

Updated: July 27, 2026, 1:01 PM IST | New Delhi

’بندھوا مزدوری‘ کے نام پرعائد کئے گئے اضافی ٹیرف میں نئی دہلی کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ کے بعد وزارت تجارت کے حوصلے بلند۔

There have been several talks between India and the US for a trade deal. (File photo)
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ کیلئے کئی مرتبہ گفتگوہوچکی ہے۔(فائل فوٹو)

’جبری مشقت‘ (بندھوا مزدوری) کے نام پرامریکہ کی جانب سے ہندوستانی  درآمدات پر اضافی۱۰؍ فیصد ٹیرف عائد کئے جانے کے باوجود ہندوستان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کو جلد حتمی شکل دینے کیلئےامریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔ وزارت تجارت کا موقف ہے کہ اگرچہ امریکہ نے اپنے تازہ ترین ٹیرف اقدامات میں  جن کا اعلان جمعہ کو کیاگیا، ہندوستانی برآمدات کو  سخت  ترین پابندیوں سے بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے اس لئے نئی دہلی نے تجارتی معاہدے کو جلد مکمل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ۱۰؍ فیصد اضافی ٹیرف ،کپڑاصنعت کو جھٹکا

واضح  رہے کہ امریکہ کے ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کو ہندوستان سمیت۶۰؍ ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا پر۱۰؍ فیصد سے۱۲ء۵؍ فیصد تک اضافی ٹیرف کا اعلان کیا۔ امریکہ کا مؤقف  ہے کہ یہ ممالک جبری مشقت سے منسلک درآمدات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہندوستانی  مصنوعات پر عائد نیا اضافی ٹیرف جون میں تجویز کئے گئے۱۲ء۵؍ فیصدسے کم ہے۔ اس اقدام سے کئی مصنوعات، جن میں جنیرک ادویات، اسمارٹ فون، اسٹیل، ایلومینیم اور آٹو پارٹس  وغیرہ کومستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نیا۱۰؍فیصد ٹیرف۲۴؍ فروری سے۱۵۰؍ دن کے لیے نافذ کئےگئے عارضی۱۰؍فیصد ٹیرف کی جگہ لے گا۔

وزارتِ تجارت نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے دفتر کے ساتھ  مسلسل رابطے اور گفتگو کی وجہ سے ہندوستانی  برآمد کنندگان کیلئے نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل کی گئی ہے۔ وزارت  کے مطابق ’’ہندوستانی  حکومت تحقیقات کے پورے عمل کے دوران یو ایس ٹی آر کے ساتھ تفصیلی تحریری جوابات، براہِ راست صلاح و مشورہ اور عوامی سماعتوں میں شرکت کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہی۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان کو حتمی فیصلے میں اضافی ٹیرف کی کم شرح والے زمرہ میں رکھا گیا، جس سے اہم شعبوں میں ہندوستانی برآمدات کو نسبتاً فائدہ ہوگا۔‘‘ وزارت کے مطابق امریکہ کو ہندوستان کی تقریباً۴۵؍ فیصد برآمدات مختلف استثنیٰ کی وجہ سے سیکشن۳۰۱؍ کے تحت عائد اضافی۱۰؍ فیصد ڈیوٹی سے باہر رہیں گی، جبکہ باقی۵۵؍فیصد برآمدات پر یہ اضافی محصول لاگو ہوگا۔ تاہم مجموعی طور پر ہندوستان پر عائد ٹیرف دیگر بیشتر متاثرہ ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔یہ نئے ٹیرف امریکہ میں پہلے سے نافذ ’’موسٹ فیورڈ نیشن‘‘(ایم ایف این) ٹیرف کے علاوہ وصول کئےجائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: خام تیل کی قیمت ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، دنیا بھر کی معیشت پر اثرات کا خدشہ

ٹیکسٹائل شعبہ کے خدشات دور کرنے کی کوشش

وزارت تجارت نے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے خدشات بھی کم کرنے کی کوشش کی  ہے۔ اس نے کہا ہے کہ سیکشن۳۰۱؍ کی حتمی سفارشات میں  بنگلہ دیش، کمبوڈیا، انڈونیشیا اور ملائیشیا کیلئے  ’’۳؍ سالہ ٹیرف ریٹ کوٹہ‘‘  کے تعلق سےجس خصوصی نظام کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ابھی  نافذ نہیں ہوا۔ وزارت کے مطابق اس معاملے پر امریکہ  بات چیت جاری ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ سے خام مال خریدنے پر بنگلہ دیش، کمبوڈیا، انڈونیشیا اور ملائیشیا کو تیار شدہ کپڑا اور ملبوسات کو اضافی ۱۰؍ فیصد ٹیرف سے استثنیٰ دیا گیا ہے جس سے ہندوستانی  ٹیکسٹائل کیلئے مسابقت مشکل ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK