مصر سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر محمد صلاح نے بین الاقوامی فٹبال میں ایک ایسا سنگ میل عبور کر لیا ہے جس نے دنیائے فٹبال کے دو بڑے ناموں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 4:08 PM IST | New Delhi
مصر سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر محمد صلاح نے بین الاقوامی فٹبال میں ایک ایسا سنگ میل عبور کر لیا ہے جس نے دنیائے فٹبال کے دو بڑے ناموں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مصر سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر محمد صلاح نے بین الاقوامی فٹبال میں ایک ایسا سنگ میل عبور کر لیا ہے جس نے دنیائے فٹبال کے دو بڑے ناموں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صلاح اب بین الاقوامی مقابلوں میں ۱۰۰؍گول کنٹری بیوشنز (گول اور اسسٹ) مکمل کرنے والے تیز ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔حیران کن طور پر یہ اعزاز لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے عظیم کھلاڑیوں سے بھی کم میچز کھیل کر حاصل کیا۔
افریقہ کپ آف نیشنز کے کوارٹر فائنل میں آئیوری کوسٹ کے خلاف کھیلے گئے سنسنی خیز میچ میں محمد صلاح نے نہ صرف گول اسکور کیا بلکہ اپنی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس گول کے ساتھ ہی ان کے مصر کے لیے مجموعی طور پر ۶۵؍ گول اور۳۵؍ اسسٹ ہو گئے ہیں، یوں ان کی مجموعی گول کنٹری بیوشن ۱۰۰؍ تک پہنچ گئی۔اس فہرست میں برازیلین لیجنڈ پیلے (۷۷؍ میچز) اور نیمار (۹۴؍ میچز) بدستور پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں، تاہم صلاح اب افریقہ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے اتنی تیزی سے یہ اعزاز حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھئے:سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’’لو اینڈ وار‘‘ کی اگست میں ریلیز کی تصدیق
ایک طرف جہاں محمد صلاح اپنی قومی ٹیم کے لیے فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں، وہیں انگلش کلب لیورپول میں ان کے معاملات کچھ کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک متنازع انٹرویو دینے کے بعد، جس میں انہوں نے کلب انتظامیہ اور کوچ سے تعلقات پر سوال اٹھائے تھے، انہیں انٹر میلان کے خلاف اہم چیمپئن لیگ میچ سے باہر رکھا گیا تھا۔ تاہم ۳۳؍سالہ صلاح نے اپنے کھیل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب بھی میدان کے اصل بادشاہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا منصوبے روک دیا
محمد صلاح گزشتہ ۱۵؍ برسوں سے مصر کی فٹبال ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں اب جبکہ مصر افریقہ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے، پوری قوم کی نظریں اپنے کپتان پر جمی ہیں کہ وہ ملک کو ایک بار پھر براعظمی چیمپئن بنوانے میں کامیاب ہو جائیں۔