Updated: August 21, 2026, 1:06 PM IST
| Lightwater
دنیا کی معمر ترین زندہ شخصیت ایتھل کیٹرہم جمعہ ۲۱؍ اگست کو اپنی ۱۱۷؍ ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ ۱۹۰۹ء میں پیدا ہونے والی برطانوی خاتون نے طویل زندگی کا راز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کبھی کسی سے بحث نہیں کرتیں، دوسروں کی بات سنتی ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارتی ہیں۔ ۱۱۷؍ برس کی عمر میں بھی ان کی زندگی نئے تجربات سے بھرپور ہے۔
ایتھل کیٹرہم۔ تصویر: آئی این این
دنیا کی معمر ترین زندہ شخصیت ایتھل کیٹرہم جمعہ یعنی ۲۱؍ اگست کو اپنی ۱۱۷؍ ویں سالگرہ منانے جا رہی ہیں۔ ان کی زندگی کا گزشتہ ایک سال کئی غیر معمولی اور یادگار تجربات سے بھرپور رہا۔ ایتھل کیٹرہم اپریل ۲۰۲۵ء میں برازیل کی نن سسٹر اِنّا کینابارو لوکاس کے ۱۱۶؍ سال کی عمر میں انتقال کے بعد دنیا کی سب سے معمر زندہ انسان بن گئی تھیں۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے طویل زندگی کا اپنا سادہ مگر معنی خیز راز بھی بتایا تھا۔ ان کے مطابق زندگی میں بحث اور جھگڑوں سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا، ’’میں کبھی کسی سے بحث نہیں کرتی، دوسروں کی بات سنتی ہوں اور اپنی مرضی کرتی ہوں۔‘‘
سرے کے لائٹ واٹر میں واقع ہالمارک لیک ویو کیئر ہوم میں مقیم ایتھل کیٹرہم اپنی ۱۱۷؍ ویں سالگرہ اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ منائیں گی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں سالگرہ کی مبارکباد دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ۱۱۷؍ برس کی عمر میں بھی اس سال انہیں کئی ایسے تجربات ہوئے جو ان کی زندگی میں پہلی بار ہوئے، جن میں لاما کو ہاتھ لگانا اور برطانیہ کے بادشاہ کا ہاتھ تھامنا بھی شامل ہے۔ ایتھل کیٹرہم سے بادشاہ چارلس نے گزشتہ سال ستمبر میں ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ان کی ۱۱۶؍ ویں سالگرہ کے کچھ ہی عرصے بعد ہوئی تھی۔ چارلس نے ان سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا۔ ملاقات کے دوران ایتھل نے ۱۹۶۹ء میں چارلس کی شہزادۂ ویلز کی حیثیت سے ہونے والی تقریبِ منصب نشینی کو بھی یاد کیا، جب وہ ۲۱؍ برس کے تھے۔ انہوں نے چارلس سے کہا تھا، ’’تمام لڑکیاں آپ پر فریفتہ تھیں اور آپ سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔‘‘
ایتھل کیٹرہم ۲۱؍ اگست ۱۹۰۹ء کو انگلینڈ کے ہیمپشائر میں واقع شپٹن بیلنگر میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ آٹھ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر سب سے چھوٹی تھیں۔ ان کی پیدائش پہلی عالمی جنگ شروع ہونے سے پانچ سال قبل ہوئی تھی۔ وہ برطانیہ کے سابق بادشاہ ایڈورڈ ہفتم کی آخری زندہ رعایا بھی ہیں، جن کا انتقال مئی ۱۹۱۰ء میں ہوا تھا۔ ۱۹۲۷ء میں ۱۸؍ سال کی عمر میں ایتھل کیٹرہم ہندوستان آئی تھیں، جہاں انہوں نے ایک فوجی خاندان کے ہاں بطور ’’آیا‘‘ کام کیا اور ۲۱؍ سال کی عمر تک ہندوستان میں رہیں۔
۱۹۳۱ء میں برطانیہ میں ایک عشائیے کے دوران ان کی ملاقات نارمن سے ہوئی، جو برطانوی فوج میں لیفٹیننٹ کرنل تھے۔ دونوں نے شادی کرلی۔ نارمن کا انتقال ۱۹۷۶ء میں ہوا۔ دونوں نے سالزبری میں زندگی گزاری، بعد ازاں نارمن کی تعیناتی جبرالٹر اور ہانگ کانگ میں ہوئی۔ ہانگ کانگ میں قیام کے دوران ایتھل نے ایک نرسری اسکول قائم کیا۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں، تاہم دونوں کا انتقال ان سے پہلے ہوگیا۔ ان کی ایک بہن گلیڈس نے بھی طویل عمر پائی اور ۱۰۴؍ برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: بی این پی لیڈر مرزا فخرالاسلام عالمگیر نئے صدر منتخب
ایتھل کیٹرہم نے ۹۷؍ برس کی عمر تک گاڑی چلائی اور ۱۰۰؍ سال کی عمر کے بعد بھی کنٹریکٹ برج کھیلنے میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ وہ ۲۰۲۰ء میں ۱۱۰؍ سال کی عمر میں کووڈ-۱۹؍ کا شکار ہوئیں، تاہم اس بیماری سے بھی صحت یاب ہوگئیں۔ واضح ہو کہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا کی تاریخ کی سب سے معمر انسان ہونے کا ریکارڈ فرانسیسی خاتون ژاں کالمان کے پاس ہے، جنہوں نے ۱۲۲؍ سال اور ۱۶۴؍ دن کی عمر پائی۔