ہندوستان کیلئےدوسرے راؤنڈ کا ہر میچ ’کرو یا مرو‘ جیسا،ہرمن پریت سنگھ کے سامنے۳؍بار کی عالمی کپ چمپئن نیدرلینڈز کو ہرانے کا چیلنج۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 1:40 PM IST | Agency | Amstelveen
ہندوستان کیلئےدوسرے راؤنڈ کا ہر میچ ’کرو یا مرو‘ جیسا،ہرمن پریت سنگھ کے سامنے۳؍بار کی عالمی کپ چمپئن نیدرلینڈز کو ہرانے کا چیلنج۔
اگرچہ ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم نے دوسرے دور میں جگہ بنا لی ہے لیکن اس کی آگے کی راہ آسان نہیں ہوگی کیونکہ بغیر کسی پوائنٹ کے آگے بڑھنے کی وجہ سے اب اس کے لئے ہر میچ کرو یا مرو جیسا بن گیا ہے۔ ورلڈ کپ کے نئے فارمیٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں اپنے گروپ میں سرفہرست رہنے والی ٹیم اگر دوسرے نمبر کی ٹیم کو شکست دے کر آگے بڑھتی ہے تو دوسرے دور میں کھیلنے سے پہلے ہی اس کے نام پر ۳؍ پوائنٹس درج ہوں گے۔ اس معاملے میں ہندوستان نقصان میں ہے کیونکہ پہلے مرحلے میں انگلینڈ سے ہارنے کی وجہ سے ہندوستانی ٹیم دوسرے دور میں اس کے خلاف نہیں کھیلے گی، جبکہ انگلینڈ پہلے مرحلے کے ۳؍ پوائنٹس کے ساتھ اس دور میں پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بٹر چکن فیکٹری: بٹر چکن پر مشتمل کئی طرح کی ڈشیز کا مرکز
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کو باقی دونوں ٹیموں کو لازمی طور پر ہرانا ہوگا۔ ہندوستان نے پول’ ڈی‘ میں ویلز کو تین ایک سے اور پاکستان کو ۳۔۵؍سے ہرایا ہے جبکہ انگلینڈ کے ہاتھوں اسے ۲؍ کے مقابلے ۴؍گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے نیدر لینڈز کی جیت تقریباً یقینی ہےکیونکہ جاپان پہلے دونوں میچ ہار کر دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو چکا ہے۔وہیں، دوسرے میچ میں عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر قابض ارجنٹائنا کا مقابلہ ۱۱؍ ویں رینکنگ والے نیوزی لینڈ سے ہوگا، جس میں دوسرے دور میں جانے والی ایک اور ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔ ارجنٹائنا اور نیوزی لینڈ دونوں ہی نیدر لینڈز سے ہارنے کے بعد ۳۔۳؍ پوائنٹس کے حامل ہیں، لیکن گول اوسط کی بنیاد پر فی الحال ارجنٹائنا دوسرے نمبر پر ہے۔
دوسرے دور میں ہندوستان کا پہلا میچ پیرس اولمپک کے طلائی تمغہ جیتنے والے نیدر لینڈز سے ہو سکتا ہے جس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ پاکستان کے خلاف تین صفراور چار ایک کی برتری حاصل کرنے کے بعد ہندوستان نے جس طرح اپنی گرفت ڈھیلی کی وہ نیدر لینڈز جیسی ٹیموں کے خلاف بھاری پڑ سکتی ہے۔
گھریلو میدان پر نیدر لینڈز کا پلڑا بھاری
۳؍اولمپک اور ۳؍رالمی کپ جیت چکی نیدرلینڈس کو اسی کی سرزمین پر شکست دینا ہرمن پریت سنگھ کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم کےلئے آسان نہیں ہوگا۔اسی میدان پر ۱۹۷۳ء میں پہلی بار عالمی کپ جیتنے والے نیدرلینڈس نے ۱۹۹۰ء اور ۱۹۹۸ء میں پھر خطاب جیتا تھا۔جبکہ گزشتہ ۴؍ورلڈ کپ میںبھی وہ ۲؍بار چاندی اور ۲؍بار برونز میڈل جیت چکا ہے۔اپنی مضبوط ہاکی روایت کےلئے مشہور نیدر لینڈس ٹیم کے ہر میچ میں ۱۰؍ہزار شائقین کی گنجائش والا اسٹیڈیم ہمیشہ بھرا رہتا ہے اور میدان کے چاروں طرح نارنجی رنگ نظر آتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی رنگ کی جرسی اب ہندوستانی کھلاڑی پہن رہے ہیں۔