Inquilab Logo Happiest Places to Work

انگلینڈ کے تیز گیندباز جان ٹرنر نے محض ۲۵؍ برس کی عمر میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا

Updated: August 07, 2026, 8:06 PM IST | London

ہیمپشائر اور انگلینڈ کے تیز گیندباز جان ٹرنر نے محض ۲۵؍ برس کی عمر میں پیشہ ورانہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا۔ ٹرنر نے ۲۰۲۴ء میں انگلینڈ کی جانب سے دو ایک روزہ اور دو ٹی۲۰؍ بین الاقوامی میچ کھیلتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

John Turner.Photo:X
جان ٹرنر۔تصویر:ایکس

ہیمپشائر اور انگلینڈ کے تیز گیندباز جان ٹرنر نے محض ۲۵؍ برس کی عمر میں پیشہ ورانہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا۔ ٹرنر نے ۲۰۲۴ء میں انگلینڈ کی جانب سے دو ایک روزہ اور دو ٹی۲۰؍ بین الاقوامی میچ کھیلتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:اگر ’’رامائن‘‘ کو آسکر نہ ملا تو مجھے مایوسی ہوگی: دیویندر فرنویس


جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں پیدا ہونے والے ٹرنر کا ہیمپشائر کے ساتھ معاہدہ ابھی مزید دو برس کے لیے باقی تھا۔ گزشتہ سال کے اختتام تک وہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے ڈیولپمنٹ کنٹریکٹ کا بھی حصہ تھے۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء کے آخر میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر انگلینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے دو ون ڈے اور دو ٹی ۲۰؍میچ کھیلے تھے۔ گھریلو کرکٹ میں بھی ان کا ریکارڈ متاثر کن رہا، جہاں انہوں نے۱۹؍ لسٹ اے میچوں میں ۳۷؍ اور ۳۵؍ ٹی ۲۰؍مقابلوں میں ۴۸؍ وکٹ حاصل کئے۔


گزشتہ سال جون میں کمر میں اسٹریس فریکچر کے باعث وہ ایک بھی مقابلہ نہیں کھیل سکے۔ ٹرنر نے کہا کہ مسلسل انجری سے پریشان رہنے کے باعث انہوں نے پیشہ ورانہ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا مشکل فیصلہ کیا۔ ایکسیٹر یونیورسٹی سے اکنامکس اور فنانس میں گریجویشن کرنے والے ٹرنر نے کہا کہ اب ان کی زندگی میں ’نئے چیلنج کو قبول کرنے کا یہی مناسب وقت‘ ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا ہمیشہ میرا خواب تھا۔ ہیمپشائر اور انگلینڈ کی نمائندگی کرنا میرے بچپن کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ تاہم اب میں نے کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جو میری زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ اسٹریس فریکچر نے مجھے ایک سال سے زیادہ عرصے تک میدان سے دور رکھا اور مجھے اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھئے:شبھ من گل زخمی، سری لنکا الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں کے ایل راہل کپتان


انہوں نے مزید کہاکہ ’’کلب نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا اور جو مواقع فراہم کیے، اس پر میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں جو کچھ حاصل کیا، اس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، اور یہ سب کلب کے ہر فرد کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔  ٹرنر نے جنوبی افریقہ کے معروف ہلٹن کالج سے تعلیم حاصل کی، تاہم اپنی برطانوی والدہ کے ذریعے حاصل ہونے والے برطانوی پاسپورٹ کی بدولت اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ منتقل ہو گئے۔ ۲۰۲۱ء میں کامیاب ٹرائل کے بعد وہ ہیمپشائر سے وابستہ ہوئے، جبکہ دی ہنڈریڈ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت ۲۰۲۳ء میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کی ٹیم میں منتخب ہوئے۔ اگرچہ وہ ہیمپشائر کی کاؤنٹی چیمپئن شپ ٹیم میں مستقل جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے کلب کے لیے صرف سات فرسٹ کلاس میچ کھیلے، جبکہ  ۲۰۲۵ء کے آغاز میں قرض پر لنکاشائر کے لیے تین میچوں میں بھی حصہ لیا، لیکن اس کے بعد انجری نے ایک بار پھر ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK