جین زی کی بھی حمایت، رسد وخوراک کے ذخیرہ کے ساتھ پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر شہر میں داخل ہوئے، مطالبات کی منظوری تک ڈٹے رہنے کا اعلان۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 10:29 AM IST | Bhopal
جین زی کی بھی حمایت، رسد وخوراک کے ذخیرہ کے ساتھ پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر شہر میں داخل ہوئے، مطالبات کی منظوری تک ڈٹے رہنے کا اعلان۔
اناج کی بوریاں، لپٹا ہوا بستر، کھانا پکانے کے برتن اور کم از کم ایک ہفتے کا راشن ساتھ لے کر تقریباً ۲؍ہزار کسان منگل کو بھوپال میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے شہر کے جنوبی حصے میں پولیس کی رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اپنی پیش قدمی جاری رکھی، جس کے بعد فصل کی خریداری سے متعلق تنازع اس سال وزیر اعلیٰ موہن یادو کی حکومت کیلئے ایک بڑے سیاسی چیلنج میں تبدیل ہو گیا۔
سمیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے بینر تلے۱۹؍کسان تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک حکومت ریاست کی مونگ کی۱۰۰؍ فیصد فصل کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریدنے اور کھاد کی تقسیم سے متعلق دیرینہ مسائل حل کرنے پر آمادہ نہیں ہو جاتی۔منگل کی رات کسانوں کا قافلہ بھوپال کے مضافاتی علاقوں تک پہنچ گیا جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور انہیں روکنے کیلئے متعدد مقامات پر بیریکیڈ لگائے گئے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ جین زی نے بھی کسانوں کا ساتھ دیا اور وہ بیرکیڈ توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’امیت شاہ یاتوقصوروار ہیں یا پھر نااہل ، استعفیٰ دیں‘‘
کسانوں کی کیا مانگ ہے؟
کسانوں کا بھوپال مارچ بنیادی طور پر اس مطالبے پر مبنی ہے کہ مونگ کی پوری فصل ایم ایس پی پر خریدی جائے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مرکزی حکومت نے تور، اُرد اور مسور کی۱۰۰؍فیصد خریداری کا اعلان کیا ہے، لیکن مونگ کی خریداری اب بھی پرائس سپورٹ اسکیم کے تحت ہوتی ہے، جس کے مطابق عام طور پر کسی بھی ریاست کی متوقع پیداوار کا صرف ۲۵؍فیصد ہی خریدا جاتا ہے۔ کسانوں کے مطابق اس کی وجہ سے انہیں فصل کی بڑی مقدار کھلی منڈی میں فروخت کرنا پڑتی ہے جہاں لاگت بھی وصول نہیں ہوتی۔‘‘