Updated: August 16, 2026, 4:03 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے معروف اداکارشاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ’وِمل الائچی‘ کے اشتہار میں کام کرنے پر مشکلات کا سامنا ہے۔ مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے تینوں اداکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے اشتہار میں ان کے کردار اور برانڈ کی تشہیر کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔
شاہ رخ اجے اور ٹائیگر۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کے معروف اداکارشاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ’وِمل الائچی‘ کے اشتہار میں کام کرنے پر مشکلات کا سامنا ہے۔ مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے تینوں اداکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے اشتہار میں ان کے کردار اور برانڈ کی تشہیر کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رحمان: انڈین ایئر فورس میں پائلٹ کی نوکری چھوڑ کر فلم انڈسٹری میں آئے تھے
مہاراشٹرایف ڈی اے کے مطابق ’وِمل الائچی‘ کے اشتہار میں استعمال ہونے والا وِمل برانڈ نام صارفین کو وِمل پان مسالا سے جوڑ سکتا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے پروڈکٹ کے نام سے اشتہار دے کر ممنوعہ پان مسالا برانڈ کی بالواسطہ تشہیر یا سرروگیٹ پروموشن کی جا سکتی ہے۔ شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف۲۰۲۴ءمیں نشر ہونے والی وِمل الائچی کی تشہیری مہم میں نظر آئے تھے۔ایف ڈی اے نے اب تینوں اداکاروں سے اس اشتہار میں ان کی شرکت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق تینوں اداکاروں کو نوٹس کا جواب دینے کے لیے ۱۵؍دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اگر مقررہ مدت میں جواب نہیں دیا گیا یا جواب تسلی بخش نہیں پایا گیا تو محکمہ مزید قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔ اداکاروں کو اپنا موقف پیش کرنے اور ذاتی سماعت کا موقع بھی دیا گیا ہے۔ مہاراشٹرایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ اشتہار بظاہروِمل برانڈ کو فروغ دیتا ہے جبکہ یہی برانڈ پان مسالا مصنوعات سے بھی منسلک ہے۔ محکمہ کے مطابق اس طرح کا اشتہار صارفین میں الجھن پیدا کر سکتا ہے اور ممنوعہ مصنوعات کی بالواسطہ تشہیر کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سوئے ہوئے قطبی ریچھ کو فوگ ہارن بجا کر جگانا مہنگا پڑا، ۵؍ ہزار ڈالرکا جرمانہ
ایف ڈی اے نے کارروائی میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ ۲۰۰۶ءکے تحت گمراہ کن اشتہارات سے متعلق دفعات کا حوالہ دیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد بالی ووڈ ستاروں کے ذریعے ایسے برانڈز کی تشہیر پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے جن کا تعلق تمباکو یا پان مسالا جیسی مصنوعات سے ہوتا ہے۔ سرروگیٹ ایڈورٹائزنگ میں عموماً کسی ایسے پروڈکٹ کا نام یا برانڈ استعمال کیا جاتا ہے جس کا تعلق اسی برانڈ کی کسی دوسری، زیادہ متنازع یا ممنوعہ مصنوعات سے بھی ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے اصل پروڈکٹ کی برانڈ شناخت عوام میں برقرار رہ سکتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ شوکاز نوٹس حتمی سزا یا جرمانہ نہیں ہوتا ۔ تینوں اداکاروں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ ان کے جوابات اورایف ڈی اے کی مزید جانچ کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔ یہ معاملہ ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ مشہور شخصیات کو صحت سے متعلق مصنوعات کی تشہیر کرتے وقت برانڈ، اشتہار اور صارفین پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کتنی احتیاط کرنی چاہیے۔