۴؍ دن میں دوسری بار احتجاج، بارش کے باوجود ڈٹی رہیں، ٹریفک جام کردیا، اعلیٰ حکام کو وہیں طلب کیا، انتظامیہ بے بس رہا۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 12:08 PM IST | Agency | Lucknow
۴؍ دن میں دوسری بار احتجاج، بارش کے باوجود ڈٹی رہیں، ٹریفک جام کردیا، اعلیٰ حکام کو وہیں طلب کیا، انتظامیہ بے بس رہا۔
کاکروچ جنتاپارٹی کی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے دوران پیر کو لکھنؤ میں جے پرکاش نارائن سرو ودیالیہ کی طالبات نے ۴؍ دنوں میں دوسری بار سڑک پر احتجاج کیا اور اپنے مطالبات پیش کرنے کیلئے وہیں طلب کیا۔تقریباً۲۰۰؍طالبات نے موسلا دھار بارش کے دوران لکھنؤ-دبگا بائی پاس کو بند کر دیا۔ کچھ طالبات گاڑیوں کے سامنے بیٹھ گئیں، جبکہ دیگر نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنالی۔ یہ طالبات اساتذہ کی کمی، مڈے میل میں ناقص معیار کے کھانے اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں ۔تقریباً ۲؍گھنٹے جاری رہنے والے احتجاج کی وجہ سے مصروف سڑک پر ٹریفک پوری طرح رک گئی۔ یہ احتجاج اُسی اسکول کے بوائز کیمپس کے ۱۰۰؍ سے زائد طلبہ کے اسی نوعیت کے احتجاج کے تین دن بعد ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: یو جی سی -این ای ٹی امتحان منسوخ، طلبہ سراپا احتجاج
پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور طالبات کو سڑک خالی کرنے کیلئے سمجھانے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۵۰؍ طالبات وہاں سے چلی گئیں لیکن کم وبیش ۵۰؍ طالبات نے ہٹنے سے انکار کر دیا۔بعد میں ویلفیئر ڈپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچے،طالبات سے گفتگو کی اور طالبات کو اپنے ساتھ اسکول چلنے پر آمادہ کیا جہاں ان کے مسائل سنے گئے اور حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ طالبات سے ملاقات کرنےوالے سوشل ویلفیئر افسر سنجیو سنگھ نے بتایا کہ طالبات نے اسکول کے اندرونی انتظام سے متعلق مسائل اٹھائے ہیں۔ خاص طور پر وارڈن کے رویے کی شکایت کی اور اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’مظفر نگر فساد کےملزمین سے مقدمات واپس لینا ملک و سماج کیلئے خطرہ‘‘
انہوں نے موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت اور کلاس کے اوقات میں تبدیلی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ سنجیو سنگھ نے بتایا کہ ہم نے انہیں سمجھایا اور اب اسکول میں بیٹھ کر ان کے مطالبات پر غور کریں گے اور مناسب کارروائی کریں گے۔جمعہ،۱۴؍ اگست کو اسکول کے بوائز کیمپس کے طلبہ نے بھی احتجاج کے دوران موہن روڈ کو بند کر دیا تھا۔ ریاستی وزیر اسیم ارون اس وقت وہاں سے گزر رہے تھے اور احتجاج کی بنا پر ٹریفک جام میں ان کی گاڑی بھی پھنس گئی تھی۔ انہوں نے مداخلت کرتے ہوئے طلبہ سے گفتگو کی تھی۔
پیر کے احتجاج کے بعد اپوزیشن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماج وادی پارٹی نے ایکس پوسٹ کیا ہے کہ ’’جین زی کے بعد اب جین الفا بھی سڑکوں پر آ گئی ہے۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ بی جے پی نے تعلیمی نظام کو کس حد تک برباد کر دیا ہے۔‘‘پارٹی نے کہاکہ’’بچوں کو تعلیم دینے، انہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے اور روزگار فراہم کرنے کے بجائے بی جے پی انہیں بندھوا مزدور بنانا چاہتی ہے۔ تعلیمی نظام کو تباہ کرنا بی جے پی کی سازش ہے، اسلئے بی جے پی کیخلاف آواز اٹھائیں اور اسے اقتدار سے ہٹائیں۔‘‘ یوپی کانگریس نے بھی لکھاکہ ’’یہ صرف طالبات کا دھرنا نہیں ہے بلکہ یہ نئی نسل کی آواز ہے جو نظام سے سوال کر رہی ہے۔‘‘