فٹبال کی عالمی تنظیم (فیفا) کے صدر جیانی انفینٹینو نے افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل میں سینیگال کی ٹیم اور شائقین کے رویے کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 6:05 PM IST | Zurich
فٹبال کی عالمی تنظیم (فیفا) کے صدر جیانی انفینٹینو نے افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل میں سینیگال کی ٹیم اور شائقین کے رویے کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
فٹبال کی عالمی تنظیم (فیفا) کے صدر جیانی انفینٹینو نے افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل میں سینیگال کی ٹیم اور شائقین کے رویے کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اتوار کو مراکش اور سینیگال کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل میں ریفری کے فیصلے پر احتجاجاً میدان چھوڑنے اور شائقین کی ہنگامہ آرائی نے فٹ بال کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس پر فیفا اور افریقی فٹ بال کنفیڈریشن (سی اے ایف) نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جیانی انفینٹینو نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ بین الاقوامی فائنل جیسے بڑے پلیٹ فارم پر کھلاڑیوں کا میدان چھوڑنا کھیل کے ضوابط کے منافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ایسے مناظر کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ تادیبی ادارے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کریں گے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔‘‘
میچ کے آخری لمحات میں جب ویڈیو ریویو(وی اے آر) کے بعد میزبان مراکش کے حق میں پنالٹی کا فیصلہ دیا گیا، تو سینیگال کے کوچ پاپے تھیاو نے احتجاجاً اپنی ٹیم کو میدان سے باہر بلا لیا۔ اس فیصلے کی وجہ سے فائنل کا کھیل تقریباً ۱۵؍ منٹ تک معطل رہا۔ اسٹیڈیم میں موجود سینیگالی شائقین نے کرسیاں میدان میں پھینکیں اور سیکوریٹیاہلکاروں سے جھڑپیں کیں، جس پر پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔
یہ بھی پڑھئے:بیڈمنٹن اسٹار سائنا نہوال کا بین الاقوامی کھیل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
مراکش فٹ بال فیڈریشن نے فیفا اور سی اے ایف کے پاس باضابطہ شکایت درج کرانے کا اعلان کیا ہے، ان کا موقف ہے کہ اس خلل نے ان کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ میچ دوبارہ شروع ہونے کے بعد اضافی وقت میں سینیگال نے پاپے گے کے گول کی بدولت خطاب تو اپنے نام کر لیا، لیکن ان کی اس جیت پر ہنگامہ آرائی کے سائے منڈلاتے رہے۔
مراکش کے کوچ ولید ریگراگی نے ان واقعات کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیا ہے جبکہ پنالٹی ضائع کرنے والے اسٹار کھلاڑی براہیم ڈیاز نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ ناکامی ان کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ اب فٹ بال حلقوں کی نظریں سی اے ایف کے تادیبی فیصلے پر جمی ہیں، جہاں سینیگال کے کوچ پر طویل پابندی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔