Inquilab Logo Happiest Places to Work

لوور میوزیم کی ۱۰۰؍ ملین ڈالر ڈکیتی پر فلم اور دستاویزی سیریز بنے گی

Updated: May 27, 2026, 5:06 PM IST | Paris

لوور میوزیم میں گزشتہ سال ہونے والی تقریباً ۱۰۰؍ ملین ڈالر کی مشہور ڈکیتی اب فلم اور دستاویزی سیریز کی شکل اختیار کرنے جا رہی ہے۔ فرانسیسی ہدایتکار رومین گاورس اس واقعے پر بننے والی فلم کی ہدایتکاری کریں گے، جبکہ ایک تحقیقی کتاب کے حقوق بھی مختلف پروڈکشن کمپنیوں نے حاصل کر لئے ہیں۔

Louvre Museum. Photo: INN
لوور میوزیم۔ تصویر: آئی این این

فرانس کے عالمی شہرت یافتہ Louvre Museum میں گزشتہ سال ہونے والی سنسنی خیز ڈکیتی اب سنیما اور اسٹریمنگ کی دنیا تک پہنچنے جا رہی ہے۔ ایک پبلشنگ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ اس واقعے پر مبنی تحقیقی کتاب کے فلمی اور دستاویزی حقوق فروخت کر دیے گئے ہیں۔ یہ ڈکیتی ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو پیش آئی تھی، جب چور میوزیم سے تقریباً ۱۰۰؍ ملین ڈالر مالیت کے نایاب زیورات لے کر فرار ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا اور فرانس میں سیکوریٹی نظام پر شدید سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ رومین گاورس، جو اپنی منفرد بصری انداز اور ہائی انرجی فلم سازی کیلئے جانے جاتے ہیں، اس واقعے پر بننے والی فلم کی ہدایتکاری کریں گے۔ ان کے نمایاں کاموں میں فلم ’’سیکری فائز‘‘ شامل ہے، جس میں انیا ٹیلر-جوائے نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: یہ حیرت انگیز ہے کہ ہندوستان میں’’الفا‘‘ جیسی ایکشن فلم بن رہی ہے :بوبی دیول

یہ فلم تحقیقی کتاب ’’Main Basse Sur Le Louvre‘‘ سے متاثر ہوگی، جو فرانسیسی اخبارات لاپاریسیان، لا موندے اور میگزین پیرس میچ کے صحافیوں نے مشترکہ طور پر تحریر کی ہے۔ کتاب بدھ کو باضابطہ طور پر مارکیٹ میں جاری کی جا رہی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس فلیمیرین کے مطابق کتاب کے فلمی حقوق پروڈکشن کمپنی آئیکونوکلاسٹ نے خرید لئے ہیں، جبکہ ایک برطانوی پروڈیوسر نے دستاویزی سیریز کے حقوق حاصل کئے ہیں۔

تجارتی جریدے لا فلم فرانسس کے مطابق فلمی منصوبہ اس وقت ابتدائی تیاری کے مرحلے میں ہے، تاہم فلم کے نام اور کاسٹ کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ لوور ڈکیتی نے نہ صرف فرانس بلکہ عالمی آرٹ کمیونٹی کو بھی حیران کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد میوزیم کی سیکوریٹی پر شدید تنقید ہوئی اور بالآخر میوزیم کی ڈائریکٹر لارینس دیس کارس کو اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: وشال جیٹھوا اور ان کی والدہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے آگے آئے

اگرچہ سات ماہ کی تحقیقات کے بعد مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن چوری شدہ زیورات اب تک برآمد نہیں کئے جا سکے۔ کتاب کے مصنفین کے مطابق یہ معاملہ اب ’’ایک گھنے معمہ‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے جس نے تفتیش کاروں کو بھی الجھن میں ڈال رکھا ہے۔مصنفین نے یہ بھی کہا کہ یہ ڈکیتی اس بڑے رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں آرٹ اور نوادرات کی چوری اب عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کیلئے ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK