دہلی کیپیٹلز (ڈی سی) کے پاس آئی پی ایل میں سب سے مضبوط اسپن بولنگ جوڑیوں میں سے ایک موجود ہے، جہاں کپتان اکشر پٹیل اور کلدیپ یادو ایک ساتھ کھیلتے ہیں۔ ایک دفاعی بولنگ میں ماہر ہے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 7:08 PM IST | New Delhi
دہلی کیپیٹلز (ڈی سی) کے پاس آئی پی ایل میں سب سے مضبوط اسپن بولنگ جوڑیوں میں سے ایک موجود ہے، جہاں کپتان اکشر پٹیل اور کلدیپ یادو ایک ساتھ کھیلتے ہیں۔ ایک دفاعی بولنگ میں ماہر ہے۔
دہلی کیپیٹلز (ڈی سی) کے پاس آئی پی ایل میں سب سے مضبوط اسپن بولنگ جوڑیوں میں سے ایک موجود ہے، جہاں کپتان اکشر پٹیل اور کلدیپ یادو ایک ساتھ کھیلتے ہیں۔ ایک دفاعی بولنگ میں ماہر ہے، جبکہ دوسرا ایسا رسٹ اسپنر ہے جسے بلے باز آسانی سے پڑھ نہیں پاتے۔ اس کے باوجود سن رائزرس حیدرآباد (ایس آر ایچ) کے خلاف شکست میں دونوں نے مل کر صرف چار اوور کیے۔
آرون فنچ نے ای ایس پی این کرک انفو کے ٹائم آؤٹ شو میں کہاکہ ’’ہم سب حیران ہیں، ہے نا؟ آپ کے دو اہم ہندوستانی اسپنرز کپتان اکشر پٹیل اور کلدیپ یادو نے مل کر صرف چار اوور کیے، جبکہ پارٹ ٹائم آف اسپنر نتیش رانا نے چار اوور ڈالے۔ میرے لیے یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔‘‘ نتیش رانا، جو ڈی سی کے گزشتہ دو میچوں میں نہیں کھیلے تھے، ایس آر ایچ کے خلاف بولنگ کا آغاز کرنے آئے۔ آئی پی ایل میں ۱۲۲؍ میچوں میں یہ ۲۷؍ویں بار تھا جب انہوں نے بولنگ کی اور صرف دوسری بار انہوں نے اپنا پورا کوٹہ مکمل کیا۔ ڈی سی کی ٹیم واضح طور پر ایسے گیندباز کی تلاش میں تھی جو رفتار کم کرے اور ابھیشیک شرما و ٹریوس ہیڈ کے خلاف گیند کو دور لے جائے۔
فنچ نے ڈی سی کی حکمت عملی کو سمجھنے کی کوشش کی، مگر تنقید سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ آپ کے کپتان، سینئر کھلاڑی اور بہترین ہندوستانی گیندبازوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ ہندوستانی ٹیم کے اہم بولرز میں سے ایک ہیں اور دو بار ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔ اگر وہ دباؤ میں خود پر بھروسہ نہیں کرتے اور بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے خلاف خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ ان کے رویے کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سیامی کھیر ۱۲؍سال بعد سیف علی خان کے ساتھ کام کریں گی
اکشر نے ابھیشیک شرما کے خلاف اپنے اچھے ریکارڈ کو نظر انداز کیا۔ منگل سے قبل انہوں نے آئی پی ایل میں آٹھ گیندوں پر صرف چھ رنز دے کر انہیں دو بار آؤٹ کیا تھا۔ فنچ نے کہا’’ان کا دفاعی مائنڈسیٹ بھی مضبوط ہے۔ وہ ایسے کھلاڑی نہیں جو دباؤ میں آکر آسان گیند ڈال دیں۔ وہ اینگل بدلتے ہیں، لینتھ کنٹرول کرتے ہیں اور اپنی مہارت کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں ابھیشیک جیسے بلے باز کے خلاف بھی وہ مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ممبئی اور چنئی کے بڑے مقابلے سے قبل دھونی اور ول جیکس کی واپسی یقینی
میچ کے بعد اکشر پٹیل نے اعتراف کیا کہ ٹیم اپنی منصوبہ بندی کو درست طریقے سے نافذ نہیں کر سکی اور اگر ایسا ہو تو کامیابی مشکل ہو جاتی ہے۔فاف ڈو پلیسیس نے بھی اس بحث میں اضافہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’اگر اکشر پہلا اوور کرتے اور ۲۰؍ رنز دے دیتے تو ہم یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے خود کو رانا سے پہلے کیوں نہیں آزمایا۔ ممکن ہے کہ انہوں نے بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب انہوں نے ٹریوس ہیڈ کو آؤٹ کیا تو پھر بھی رانا کو اوور کیوں دیے گئے، جبکہ انہوں نے اپنے آئی پی ایل کیریئر میں شاید ہی کبھی چار اوور کیے ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’کلدیپ کے بارے میں میں سمجھ سکتا ہوں کیونکہ وہ اپنی بہترین فارم میں نہیں تھے۔ انہوں نے دو اوور میں ۳۰؍ رنز دیے، اس لیے شاید ٹیم نے فنگر اسپنر کا رخ کیا۔ لیکن اس کے باوجود میں اکشر کو ہی ترجیح دیتا، کیونکہ ان کے پاس مہارت ہے، وہ اینگل بدل سکتے ہیں، پیروں پر گیند ڈال سکتے ہیں اور ان کے پاس کئی طریقے ہیں۔‘‘