ہندوستان نے ۳؍ سال پہلے مہنگائی اور گھریلو ضروریات کی وجہ سے گندم پر لگائے گئے برآمدی پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ تین سال بعد ۵؍ لاکھ ٹن گندم کا آٹا، میدہ اور سوجی ملک سے باہر بھیجنے کی اجازت ملی ہے۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 6:24 PM IST | New Delhi
ہندوستان نے ۳؍ سال پہلے مہنگائی اور گھریلو ضروریات کی وجہ سے گندم پر لگائے گئے برآمدی پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ تین سال بعد ۵؍ لاکھ ٹن گندم کا آٹا، میدہ اور سوجی ملک سے باہر بھیجنے کی اجازت ملی ہے۔
حکومت نے ۵؍ لاکھ ٹن گندم کے آٹے اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی برآمد کی اجازت دے دی ہے۔ برآمد پر لگے پابندی میں یہ جزوی نرمی تین سال سے زیادہ عرصے کے وقفے کے بعد دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے سال۲۰۲۲؍ میں گندم کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی۔ ہندوستان اس فصل کا ایک اہم پیدا کنندہ ملک ہے۔
بیرونی تجارت کے ڈائریکٹوریٹ(ڈی جی ایف ٹی ) نے ۱۶؍ جنوری کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا کہ گندم کے آٹے اور متعلقہ مصنوعات کی برآمد پابندی کے تحت رہے گی۔ تاہم، موجودہ پالیسی شرائط کے تحت پانچ لاکھ ٹن تک گندم کے آٹے اور متعلقہ مصنوعات کی برآمد کی اجازت دی گئی ہے۔ ڈی جی ایف ٹی نے کہا کہ جو درخواست دہندگان اس مصنوعات کو برآمد کرنا چاہتے ہیں، انہیں ڈائریکٹوریٹ سے اجازت لینی ہوگی اور اس کے لیے درخواست دینی ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، پہلے مرحلے میں درخواستیں ۲۱؍جنوری ۲۰۲۶ء سے ۳۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء تک دی جا سکتی ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ اس کے بعد جب تک برآمد کی مقررہ مقدار دستیاب رہے گی، ہر ماہ کے آخری ۱۰؍ دنوں میں درخواستیں طلب کی جائیں گی۔
ڈی جی ایف ٹی نے بتایا کہ برآمد کا یہ حق جاری ہونے کی تاریخ سے ۶؍ ماہ کے لیے مؤثر ہوگا۔ برآمد کنندگان، آٹا ملیں یا پروسیسنگ یونٹس اس کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ تاہم، ان کے پاس قانونی آئی ای سی(آئی امپورٹ ایکسپورٹ کوڈ) اور ایف ایس ایس اے آئی لائسنس ہونا ضروری ہے۔ برآمدی پروسیسنگ یونٹس اور خصوصی اقتصادی زون(ایس ای زیڈ) کے علاوہ، وہ تاجروں برآمد کنندگان بھی درخواست دے سکتے ہیں جن کے پاس قانونی آئی ای سی اورایف ایس ایس اے آئی لائسنس ہے اور جن کا آٹا ملوں کے ساتھ قانونی معاہدہ یا سپلائی کنٹریکٹ ہے۔ برآمد کی مقدار کا فیصلہ ایک خصوصی ایکزیم کمیٹی کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:سعودی پرو لیگ: الہلال کی فتوحات کا سلسلہ برقرار
حکومت نے سال۲۰۲۲؍ میں ہی گندم اور اس کی مصنوعات کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی، لیکن کچھ ضرورت مند ممالک کو اس کی برآمد جاری رہی۔ جیسے، موجودہ مالی سال میں حکومت نے ۲؍ لاکھ ٹن گندم نیپال کو دی۔ اسی طرح، بھوٹان اور مالی سمیت دیگر ممالک کو بھی ضرورت کے مطابق برآمد کیا گیا۔ تاہم، اس ہنگامی برآمد کو چھوڑیں تو اپریل سے اکتوبر ۲۰۲۵ء تک صرف ۱۲؍ ہزار ٹن گندم کی برآمد ہوئی ہے۔ حکومت نے مہنگائی کی وجہ سے گندم کی برآمد پر پابندی برقرار رکھی ہے۔