Updated: June 24, 2026, 11:07 AM IST
|
Agency
| Kabul
سابق افغان خلاء باز عبدالاحد مومند اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ خلاء میں جانے والے پہلے افغان مسلمان تھے، جو اپنے سفر پر قرآن شریف ساتھ لے گئے تھے اور انھوں نے ا سپیس سٹیشن کے اندر قرآن کی تلاوت بھی کی تھی۔
خلاء بازی کے وقت عبدالاحد مومند( درمیان)-تصویر:آئی این این
سابق افغان خلاء باز عبدالاحد مومند اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ خلاء میں جانے والے پہلے افغان مسلمان تھے، جو اپنے سفر پر قرآن شریف ساتھ لے گئے تھے اور انھوں نے ا سپیس سٹیشن کے اندر قرآن کی تلاوت بھی کی تھی۔پیر کو ۶۷؍ سالہ مومند کی جرمنی میں وفات ہوئی ہے۔ وہ کچھ عرصے سے ایک بیماری میں مبتلا تھے اور بعد میں ان میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔مومند ۱۹۸۸ء میں سوویت خلائی اسٹیشن ’میر‘ کے سفر کے دوران اپنے ساتھ قرآن شریف خلاء میں لے گئے تھے اور وہاں اس کی تلاوت کرتے تھے۔انھوں نے وہیں سے اپنی والدہ کو ٹیلی فون بھی کیا تھا جس کے بعد پشتو خلا میں بولی جانے والی چوتھی زبان بن گئی تھی۔
اس تاریخی سفر کے وقت مومند کی عمر محض ۲۹؍ برس تھی۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور پھر غزنی کے سلطان شہاب الدین اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ کابل کے حبیبیہ ہائی اسکول چلے گئے۔انھوں نے کابل کے پالی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں دو سال تعلیم حاصل کی اور پھر سابق سوویت یونین گئے جہاں انھوں نے ہوا بازی کی تین سالہ تربیت حاصل کی۔ملک واپس آنے کے بعد انھوں نے ۱۹۸۱ء سے ۱۹۸۴ء کے درمیان بگرام ایئر بیس پر فضائیہ کے پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اورپھر ۱۹۸۴ء سے ۱۹۸۷ء کے درمیان پوسٹ گریجویٹ تعلیم کیلئے کیف یونیورسٹی آف ایوی ایشن اینڈ انجینئرنگ میں زیرِ تعلیم رہے۔اس عرصے کے دوران انھوں نے پائلٹ کے ایک گروپ کے ساتھ خلا بازی کی اہلیت کے امتحانات میں حصہ لیا۔ یہ عمل صرف ۶؍ ماہ تک جاری رہا جبکہ دیگر ممالک کے خلا بازوں کیلئے اس میں ۱۸؍ ماہ سے دو سال تک کا وقت لگتا تھا۔انھوں نے ۲۹؍ اگست ۱۹۸۸ء کو میر خلائی اسٹیشن کیلئے اپنی خلائی پرواز کا آغاز کیا اور اسی سال ۷؍ ستمبر کو زمین پر واپس آئے۔واپسی کے کچھ ہی عرصے بعد وہ اسٹاف سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ماسکو گئے اور بعد ازاں ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۱ءکے درمیان افغانستان کی اکیڈمی آف سائنس میں کام کیا۔
جس سال روسی فوج افغانستان چھوڑ کر جا رہی تھی اسی وقت اس کی ایک ٹیم خلاء میں روانہ کی گئی تھی جس میں عبدالاحد مومند بھی تھے۔ وہ کسی ہیرو کی طرح واپس آئے تھے لیکن ۱۹۹۲؍ میں خانہ جنگی کی وجہ سے انہیں اپنا ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں (دو بیٹیوں اور ایک بیٹے) کے ساتھ جرمنی کے شہر سٹٹگارٹ میں مقیم تھے۔افغانستان کے سابق صدر محمد اشرف غنی نے مومند کی اچانک وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔