Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرنچ اوپن: سواتیک اور ریباکینا کی آسان جیت، واورینکا اور مونفیس کا جذباتی الوداع

Updated: May 26, 2026, 8:06 PM IST | Paris

رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) میں پیر کا دن جہاں ٹاپ سیڈ کھلاڑیوں کی فتوحات کا گواہ بنا، وہی ٹینس کی دنیا کے دو عظیم ناموں، اسٹین واورینکا اور گیل مونفیس کے کیریئر کے اختتام کا بھی گواہ رہا۔

Gael.Photo:X
گائل۔ تصویر:ایکس

رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) میں پیر کا دن جہاں ٹاپ سیڈ کھلاڑیوں کی فتوحات کا گواہ بنا، وہی ٹینس کی دنیا کے دو عظیم ناموں، اسٹین واورینکا اور گیل مونفیس کے کیریئر کے اختتام کا بھی گواہ رہا۔چار بار کی چیمپئن ایگا سواتیک  (پولینڈ) نے اپنی مہم کا شاندار آغاز کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ایمرسن جونز کو یکطرفہ مقابلے میں ۱۔۶، ۲۔۶؍ سے شکست دی۔سواتیک  اب رافیل ندال کے سابق کوچ فرانسس روئیگ کی نگرانی میں کھیل رہی ہیں۔

 


 دوسری سیڈ (قزاخستان) کی ریباکینا نے بھی شاندار فارم کا مظاہرہ کیا اور سلووینیا کی کھلاڑی کو۲۔۶، ۲۔۶؍ سے ہرا کر دوسرے راؤنڈ میں جگہ بنا لی۔ایلینا سویتولینا، جیسمین پاولینی، کیرولینا موچووا اور جیلینا اوسٹاپینکو بھی اپنے اپنے میچ جیت کر اگلے مرحلے میں پہنچ گئیں۔کیسپر رُوڈ، بین شیلٹن، ایلکس ڈی مینور اور آندرے روبلوف نے دوسرے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے:علی فضل نے کہا :’’مرزاپور: دی فلم‘‘ گڈو پنڈت کو نئی سطح پر لے جاتی ہے


چین کے وو یبنگ نے اپنی تاریخ رقم کرتے ہوئے فرنچ اوپن کے مین ڈرا میں کریئر کی پہلی فتح حاصل کی۔فرنچ اوپن کا یہ دن ٹینس شائقین کے لیے جذباتی رہا کیونکہ دو تجربہ کار کھلاڑی پہلے راؤنڈ میں شکست کے بعد ریٹائر ڈہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کو پاکستان کے گرم موسم سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا: میتھیو شارٹ


اسٹین واورینکا (۴۱؍ سال) کو سابق چیمپئن کو ہالینڈ کے جیسپر ڈی جونگ نے شکست دی۔ واورینکا نے ۲۵؍ سالہ طویل کریئر کے بعد ٹینس کو خیرباد کہا۔ فرانسیسی اسٹار گیل مونفیس (۳۹؍ سال) اپنے ہی ملک کے کھلاڑی ہیوگو گیسٹن سے پانچ سیٹس کے مقابلے کے بعد ہار گئے۔ دونوں کھلاڑیوں کو کورٹ پر موجود بڑی اسکرینز کے ذریعے روزجر فیڈرر، رافیل ندال اور نوواک جوکووچ کے ویڈیو پیغامات دکھا کر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ واورینکا  نے کہا کہ ’’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں ۲۵؍ سال تک ٹینس کھیل سکا۔ مداحوں کے اتنے پیار کے ساتھ الوداع کہنا ہی وہ وجہ ہے جس کے لیے میں اتنے عرصے تک کھیلتا رہا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK