Updated: January 24, 2026, 4:03 PM IST
|
Agency
| New Delhi
پیس نے ملک میں کھیلوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئے اور سائنسی روڈ میپ کی وکالت کی ،ٹیلنٹ اسکائوٹنگ کے روایتی طریقہ تبدیل کرنے پر زور۔
ملک کے لیجنڈ ٹینس کھلاڑی لینڈر پیس نے روڈ میپ سجھایا ہے۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی ٹینس کی تاریخ کے روشن ستارے لینڈر پیس نے ملک میں کھیلوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئے اور سائنسی روڈ میپ کی وکالت کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہندوستان کے اصل ہیرے میٹرو شہروں کے مہنگے کلبوں میں نہیں بلکہ دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبات میں چھپے ہوئے ہیں۔لینڈر پیس نے زور دے کر کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ٹیلنٹ اسکاؤٹنگ کے روایتی طریقوں کو چھوڑ کر جدید سائنسی طریقوں کو اپنائیں۔ پیس نے کہا کہ میں واقعی یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے اولمپک چمپئن دیہی ہندوستان سے آئیں گے۔ یہ ٹائر ۲؍ او ر ٹائر ۳؍ شہروں سے ہوں گے، کیونکہ وہیں جوش و جذبہ ہے اور وہیں ٹیلنٹ ہے۔ بدقسمتی سے، ان کے پاس اپنی صلاحیت دکھانے کے مواقع نہیں ہیں۔ اگر ہم دیہی علاقوں میں جائیں، وہاں ٹیلنٹ کا جائزہ لیں، جینیاتی ٹیسٹ، جسمانی ٹیسٹ، ہڈی اور پٹھوں کی مضبوطی کے ٹیسٹ اور ذہنی صحت کا جائزہ لیں تو ہم ایسے کھلاڑی پیدا کر سکتے ہیں جو مہنگے اسپورٹس کلبوں کی رکنیت نہ لے پانے کے باوجود عالمی معیار کے ہوں گے۔صرف جسمانی مضبوطی ہی نہیں، بلکہ کھلاڑیوں کی نفسیاتی مضبوطی کو بھی ترجیح دی جائے۔
یہ بیان انہوں نے دہلی گولف کلب میں گولف گروتھ انیشی ایٹیو تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ یہ پروگرام انڈین گولف پریمیر لیگ ، انڈین گولف یونین ، پروفیشنل گولفز ایسوسی ایشن آف انڈیا اورگولف فاؤنڈیشن کی مشترکہ پہل ہے، جس کا مقصد ملک کی اگلی نسل کے گولف کھلاڑی تیار کرنا ہے۔
پیس جو ۷؍ اولمپکس میں ہندوستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، نے کہا کہ۲۰۳۰ء کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی اور۲۰۳۶ء سمر اولمپکس کی میزبانی کے لئےکوششیں بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بین الاقوامی مقابلے ملک کی ساکھ بڑھاتے ہیں اور جی ڈی پی کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ چاہے امریکہ ہو، برطانیہ، چین یا یونان، اولمپکس کی میزبانی کے بعد ہمیشہ ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی ہے اور ہم اپنے یہاں بھی یہی بات چاہیں گے۔