Updated: March 17, 2026, 11:03 AM IST
|
Agency
| Mumbai
میناکماری، راج کمار اور اشوک کمار کی اداکاری سےسجی کمال امروہی کی فلم’پاکیزہ‘ کے گیت ہر خاص و عام کو پسند آتے ہیں۔ آج ہم ان گیتوں کے خالق غلام محمدکے تعلق سے گفتگو کریں گے۔
موسیقار غلام محمد۔ تصویر:آئی این این
میناکماری، راج کمار اور اشوک کمار کی اداکاری سےسجی کمال امروہی کی فلم’پاکیزہ‘ کے گیت ہر خاص و عام کو پسند آتے ہیں۔ آج ہم ان گیتوں کے خالق غلام محمدکے تعلق سے گفتگو کریں گے۔پاکیزہ کےعلاوہ شاعر (۱۹۴۹ء)، پردیس (۱۹۵۰ء)،مرزا غالب (۱۹۵۴ء)، شمع (۱۹۶۱ء) کے گیتوں کیلئے بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکیزہ سے انہیں زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ فلم کے پروڈیوسر کمال امروہی اور اداکارہ مینا کماری کے بیچ تنازع کی وجہ سے فلم پاکیزہ تاخیر کا شکار ہوتی رہی، یہاں تک کہ غلام محمد کی زندگی میںیہ فلم ریلیز نہیں ہوسکی بلکہ ان کے انتقال کے ۴؍سال بعد یہ فلم ریلیز ہوسکی۔
غلام محمد۱۹۰۳ء میں راجستھان کے شہر بیکانیر میں ایک موسیقارخاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد نبی بخش مشہور طبلہ نوازتھے۔ انہوں نے محض ۶؍سال کی عمر سے ہی پنجاب کی نیو البرٹ تھیٹریکل کمپنی کی بیکانیر شاخ میں البرٹ تھیٹر سے اپنے کریئر کا آغازکیا تھا۔ انہوں نے ۲۵؍ روپے ماہانہ پر تھیٹر کے کانٹریکٹ آرٹسٹ کے طور پر کانٹریکٹ پر دستخط کئے تھے لیکن اس سے پہلے کہ وہ کام شروع کرتے معاشی مسائل کے سبب کمپنی ہی بند ہوگئی۔ ۱۹۲۴ء میں وہ بمبئی آگئےجہاں انہوں نے ۸؍سال تک جدودجہد کی اس کے بعد ۱۹۳۲ء میں انہیں سروج مووی ٹون کی فلم ’راجا بھرتری‘ میں طلبہ بجانے کا موقع ملا۔میوزک ڈائریکٹر کے طو ر پر سب سے پہلے انہوں نے کاردار پروڈکشن میں نوشاد اور انل بسواس کے ساتھ ۱۲؍ سال تک کام کیا۔ اس کے بعد انہیں ۱۹۴۷ءمیں خود اپنے دم پر’ٹائیگر کوئین‘ میں موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا۔اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں کیلئے موسیقی ترتیب دی۔ ۱۹۵۴ء میں ریلیز ہونے والی فلم’مرزا غالب‘ کیلئے۱۹۵۵ء میں انہیں نیشنل فلم ایوارڈ فار بیسٹ میوزک ڈائریکشن کا ایوارڈ دیا گیا۔
ان کا انتقال ۱۷؍مارچ ۱۹۶۸ءکو ہو گیا تھا جبکہ ان کی فلم’پاکیزہ‘ ۱۹۷۲ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ دراصل ان کے مربی اور خیر خواہ نوشاد نے فلم پاکیزہ کی موسیقی مکمل کرنے میں مدد کی تھی۔انہیں ۱۹۷۲ء میںفلم فیئر ایوارڈ میں فلم پاکیزہ کے سبب بہترین میوزک ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔یہاں تک کہ ۱۹۷۲ء میں پران نے فلم بے ایمان کیلئے بہترین سپورٹنگ ایکٹر کیلئے دیئے جانے والے فلم فیئر ایوارڈ کو لینے سے انکار کردیا تھا۔ ان کا مانناتھا کہ میوزک کمپوزر غلام محمد کو فلم پاکیزہ کے گانوں کیلئے بہترین میوزک ڈائریکٹر کا ایوارڈ دیا جانا چاہئے۔کئی لوگ ان کی موسیقی کو ہندوستانی سنیما کی بہترین موسیقی قرار دیتے ہیں۔ ممبئی میں ’کیپ الائیو‘ میوزک شو کی سیریز میں بہترین موسیقاروں کی عزت افزائی کی جاتی ہے، اسی کے تحت ۱۹۹۷ء میں ان کی عزت افزائی کی گئی تھی۔
اپنی ۶۵؍سالہ زندگی میںوہ ۱۹۳۱ء سے ۱۹۶۳ء تک فلموں کی موسیقی سے منسلک رہے۔ اس دوران تقریباً ۳۶؍فلموں کی موسیقی کیلئےانہوں نے کام کیاجبکہ فلم مرزا غالب کیلئے ۱۹۵۵ء میں انہیں نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔