Updated: May 24, 2026, 8:02 PM IST
| New Delhi
اپنے روایتی حریف انیمیش کوجورکو ایک تاریخی، ریکارڈ توڑ کر اسپرنٹ جنگ میں پیچھے چھوڑتے ہوئے پنجاب کے گُروِیندر ویر سنگھ نے، جو ریلائنس کی نمائندگی کرتے ہیں،۱۰ء۱۰؍ سیکنڈ سے کم وقت کی حد کو توڑ کر ہندوستان کے غیر متنازع ’’اسپیڈ کنگ‘‘ بننے کا اعلان کر دیا۔
گُرویندرویر سنگھ۔ تصویر:ایکس
اپنے روایتی حریف انیمیش کوجورکو ایک تاریخی، ریکارڈ توڑ کر اسپرنٹ جنگ میں پیچھے چھوڑتے ہوئے پنجاب کے گُروِیندر ویر سنگھ نے، جو ریلائنس کی نمائندگی کرتے ہیں،۱۰ء۱۰؍ سیکنڈ سے کم وقت کی حد کو توڑ کر ہندوستان کے غیر متنازع ’’اسپیڈ کنگ‘‘ بننے کا اعلان کر دیا۔ ’’۱۰ء۱۰؍وقت ابھی ختم نہیں ہوا۔ انتظار کرو، میں ابھی بھی کھڑا ہوں،‘‘ یہ وہ الفاظ تھے جو گُروِیندر ویر سنگھ نے ایک نوٹ پر لکھے تھے، بالکل آئی پی ایل اسٹائل جشن کے انداز میں، جب وہ ۱۰۰؍ میٹر دوڑ میں ۱۰ء۱۰؍ سیکنڈ سے کم وقت حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی بنے۔ یہ ریکارڈ ۲۳؍ مئی (ہفتہ) کی شام جھارکھنڈ کے برسا منڈا ایتھلیٹکس اسٹیڈیم، رانچی میں ۲۹؍ویں نیشنل سینئر ایتھلیٹکس فیڈریشن مقابلے کے دوران قائم ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:مجھے معلوم تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے، میں بہترین ذہنی حالت میں تھا: شریاس ایّر
شور مچاتے ہوئے ہجوم کے سامنے گُروِیندر ویر سنگھ نے صرف گولڈ میڈل ہی نہیں جیتا۔انہوں نے غیر معمولی۰۹ء۱۰؍ سیکنڈ کا وقت بھی ریکارڈ کیا۔اس ایک برق رفتار دوڑ کے ساتھ وہ تاریخ میں پہلے ہندوستانی بن گئے جنہوں نے ۱۰ء۱۰؍ سیکنڈ کی حد سے نیچے وقت حاصل کیا، اور عالمی سطح پر ق۱۰؍سیکنڈ کے قریب پہنچنے والے چند بہترین ایتھلیٹس میں اپنی جگہ بنائی۔ اس کارکردگی نے انہیں اس سیزن کا ایشیا کا دوسرا تیز ترین وقت بھی دلا دیا۔
فنش لائن عبور کرنے اور تاریخ رقم کرنے کے فوراً بعد، گُروِیندر ویر سنگھ نے کیمروں کے سامنے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ دکھایا جس نے ناقدین، سلیکٹرز اور پورے ایتھلیٹکس نظام کو ایک سخت پیغام دیا۔نوٹ میں صرف یہ لکھا تھا’’ ۱۰ء۱۰؍ ابھی ختم نہیں ہوا۔ انتظار کرو، میں ابھی بھی کھڑا ہوں۔‘‘یہ بیان ان کے کئی برسوں پر مشتمل شدید چوٹوں، ہیمسٹرنگ انجریز اور مسلسل شکوک و شبہات کا جذباتی ردعمل تھا۔ ابتدائی قومی ریکارڈز بنانے کے بعد وہ کافی عرصے کے لیے منظرنامے سے باہر ہو گئے تھےاور ناقدین یہ سمجھنے لگے تھے کہ ان کا عروج ختم ہو چکا ہے اور اب انہیں نئی نسل کے اسپرنٹرز کے لیے جگہ چھوڑ دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:’’رامائن‘‘ کے حقوق پر بولی کی جنگ، ہندی ڈیل ۴۵۰؍ کروڑ تک پہنچ گئی
۱۰ء۱۰؍کو کاٹ کر۰۹ء۱۰؍لکھ کر گُروِیندر ویر سنگھ نے فیڈریشن کو یہ اشارہ دیا کہ ان کا طویل اور تکلیف دہ ری ہیبیلیٹیشن کا سفر مکمل ہو چکا ہے۔ اپنے کیریئر میں ملنے والی حوصلہ شکنی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے جذباتی انداز میں کہا’’لوگ مجھے ۱۰۰؍ میٹر دوڑ کے لیے حوصلہ نہیں دیتے تھے۔ کہتے تھے۴۰۰؍ میٹر دوڑو۔ کہتے تھے ہندوستانی ۱۰۰؍ میٹر نہیں دوڑ سکتے۔ لیکن میں نے ایک بات ثابت کرنی تھی۔ انڈین جینز بہت مضبوط ہیں!‘‘